تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 145
وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيْدٌؕ۰۰۹ اور وہ یقیناً (باوجود اس کے)مال کی محبت میں بہت بڑا تیز ہے۔حلّ لُغات۔اَلْـخَیْـرُ۔اَلْـخَیْـرُ۔خَیْرٌ کے معنے ہوتے ہیں وِجْدَانُ الشَّیْءِ عَلٰی کَمَالَاتِہِ الَّائِقَۃِ کسی چیز میں جو کمالات پائے جانے چاہئیںان تمام کمالات کے ساتھ جب کوئی چیز ہو تو اس کو عربی زبان میں خَیْرٌ کہتے ہیںاور خَیْرٌ کے معنے گھوڑوں کے بھی ہوتے ہیںاور خَیْرٌ کے معنے اس چیز کے بھی ہوتے ہیںجس میں بہت سی خیر پائی جائے یعنی بہتر سے بہتراور خَیْـرٌ مطلق مال کو بھی کہتے ہیں (اقرب) شَدِیْدٌ کے معنے شُـجَاعٌ۔بَـخِیْلٌ۔قَوِیٌّ۔رَفِیْعُ الشَّاْنِ اور مضبوط کے ہوتے ہیںاور کنایۃً شَدِیْدٌ کا لفظ متکبر اور عظمت پسند کے معنوں میںبھی استعمال ہوتا ہے اس کی جمع شدائداوراشدّاءآتی ہے (اقرب) تفسیر۔مختلف معانی کے لحاظ سے اس کے معنے ایک تو یہ ہوں گے کہ (۱)اوپر جس انسان کا ذکر ہوا ہے وہ مال کی محبت میں بڑا پکا ہے یعنی اس کی محبت مال سے بہت بڑھی ہوئی ہے (۲)دوسرے معنے یہ بھی ہو سکتے ہیںکہ یہ آدمی مال کی محبت میں بڑا شجاع ہے یعنی قومی روح اور قومی قربانی اس میں نہیں پائی جاتی یا دینی قربانی اس میں نہیں پائی جاتی اگر خدا تعالیٰ کے لئے کسی قربانی کی ضرورت ہو تو وہ کوئی قربانی نہیں کر سکتا۔اگر قوم کی ترقی کے لئے کسی قربانی کی ضرورت ہو تو وہ اس قربانی کو ادا کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتا۔لیکن اگر کہیں سے مال ملتا ہو تو پھر یہ بڑا دلیر ہو جاتا ہے۔یا اس کا مال چھنتا ہو تو خوب مرنے مارنے کو تیار ہو جاتا ہے۔دین کی ہتک ہو جائے،قوم کی ہتک ہوجائے،قوم کی عزت پر حملہ ہو جائے، قوم کی آزادی اور حریت پر حملہ ہو جائے اس کی غیرت جوش میں نہیں آتی وہ بزدل بن کر اپنے گھر میں بیٹھا رہتا ہے لیکن اگر کوئی شخص اس کے مال پر ہاتھ ڈال دے تو پھر جان دینے کے لئے تیار ہوجاتا ہے(۳) تیسرے معنے اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيْدٌ کے یہ ہو ں گے کہ بِسَبَبِ حُبِّ الْـخَیْـرِ یعنی بخل کی کئی وجوہ ہوتی ہیں۔بخل کے معنے ہوتے ہیں روپیہ روک لینا۔لیکن یہ ہر شخص جانتا ہے کہ روپیہ روک لینے کی کئی وجوہ ہو سکتی ہیںضروری نہیں کہ ہر شخص ایک وجہ سے ہی بخل کا ارتکاب کرتا ہو۔ان وجوہ میں سے جو مال کو روک لینے کے محرک بن جاتے ہیں۔کبھی بخل ناداری کی وجہ سے ہوتا ہے مثلاً ایک غریب شخص ہے اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں کھانے کے لئے صرف ایک روٹی پڑی ہے اور وہ ڈرتا ہے کہ اگر یہ ایک روٹی بھی خرچ ہو گئی تو جب بچے جاگیں گے ان کے کھانے کے لئے کچھ نہیں ہوگا اس لئے وہ روٹی کو سنبھال کر رکھ لیتا ہے ایسی حالت میں ایک فقیر