تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 147
کو اپنے کندھوں پر رکھا ہوا ہے۔حالانکہ جوتی تو اس لئے ہوتی ہے کہ کانٹوں اور جھاڑیوں اور کنکروں سے بچائے نہ اس لئے کہ جوتی کو اٹھا لیا جائے اورننگے پائوں کانٹوں اور کنکروں پر چلنا شروع کر دیا جا ئے۔مگر زمیندار بچارہ تو غربت کی وجہ سے ایسا کرتا ہے جانتا ہے کہ میرے پاس ایک ہی جوتی ہے اور میرا فرض ہے کہ میں اسے سنبھال کر رکھوںاگر جوتی پھٹ گئی اور مجھے اپنی بیٹی کے پاس جانا پڑا تو لوگ اسے کیا کہیں گے کہ تیرا باپ ننگے پائوں آگیاہے اور اس کے پاس جوتی کے لئے بھی پیسے نہیں۔اسی وجہ سے وہ اپنی جوتی سنبھال کر رکھتا ہے اور اس کی حالت کو دیکھ کر اس کی غربت پر بھی رحم آتا ہے اور اپنے ملک کی حالت پر بھی افسوس آتا ہے۔مگر وجہ کچھ ہو بہرحال نظارہ یہی ہوتا ہے کہ جو ذریعہ ہے اس کو مقصود بنالیا جاتا ہے اور جس مقصد کے حصول کا وہ ذریعہ ہوتا ہے اسے بھلا دیا جاتا ہے۔جوتی اس لئے ہوتی ہے کہ پائوں کو زخم سے بچائے مگر زمیندار اپنے پیر کو زخمی ہونے دیتا ہے اور جوتی کو بچاتاہے۔اسی طرح روپیہ بھی اسی لئے آتا ہے کہ انسان اس کو خرچ کر کے فائدہ اٹھائے۔خواہ قومی مفاد پر اس کو خرچ کرے خواہ ذاتی مفاد پر۔مگر وہ اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتا حالانکہ اگر وہ خدا تعالیٰ کی رضا اور اس کے دین کی مدد کے لئے روپیہ خرچ کرنا نہیں چاہتا تھا تو اسے چاہیے تھا کہ قومی مفاد کے لئے ہی روپیہ خرچ کرتا یا ذاتی فائدہ کے لئے روپیہ صرف کر دیتا۔آخر کسی نہ کسی کام پر تو اسے بہر حال روپیہ صرف کرنا چاہیے تھا۔خدا کے لئے نہ سہی قوم کے لئے ہی کارخانے جاری کردیتا تاکہ لوگوں کو مزدوری مل جاتی یا انہیں سستا کپڑا ملناشروع ہو جاتا۔یا مثلاً آٹے کی مشین لگا دیتا یا غرباء اور یتامیٰ ومساکین کی ترقی کے لئے کسی صنعت وحرفت یا تجارت کی داغ بیل ڈال دیتا یا مدرسے کھول دیتا تاکہ بچے علم حاصل کریں اور قوم کو عروج حاصل ہو۔غرض سینکڑوں طریق ایسے تھے جن سے کام لے کر وہ اپنے روپیہ کو ایسے رنگ میں خرچ کر سکتا تھا کہ اس کی ذات کو بھی فائدہ پہنچتا اور اس کی قوم کو بھی فائدہ پہنچتا۔مگر وہ روپیہ کو غلق میں بند کر کے رکھ لیتا ہے نہ خدا کے لئے خرچ کرتا ہے نہ قومی مفاد کے لئے خرچ کرنے پر تیار ہوتا ہے اور آخر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی دولت بڑھتی نہیں بلکہ سمٹ کر محدود ہو جاتی ہے۔کسی صوفی کا قول ہے کہ تو روپیہ دے تاکہ وہ تیری طرف واپس لوٹے تو روپیہ کو روک کر نہ رکھ کہ وہ تیرے لئے عار بن جائے۔دنیا میں جتنی قومیں روپیہ خرچ کرتی ہیں ان کا مال بڑھتا ہے مگر جو روپیہ کو روک کر رکھ لیتی ہیں ان کی دولت کم ہونی شروع ہو جاتی ہے۔پس فرماتا ہے اگر ان لوگوں کو خدا بھول گیا تھا اور وہ اس کی رضا کے لئے روپیہ خرچ کرنا ایک بے معنی بات سمجھتے تھے تو کم ازکم انہیں اتنا تو چاہیے تھا کہ قوم کے لئے روپیہ خرچ کرتے مگر ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ جن چیزوں کے لئے روپیہ رکھا جاتا ہے جن چیزوں کے لئے روپیہ کو تلاش کیا جاتا ہے جن چیزوں کے لئے روپیہ کو حاصل کیا جاتا