تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 138
جیسا کہ مختصراً پہلے بتایا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فَالْمُغِيْرٰتِ صُبْحًا اور فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًا میں یہ حقیقت بیان فرمائی ہے کہ مسلمانوں کے حملہ اور ان کی فتح میں کوئی لمبا وقت صرف نہیں ہوتا۔ان کا حملہ بھی صبح کے وقت ہوتا ہے اور ان کی فتح بھی صبح کے وقت ہوتی ہے یعنی ادھر حملہ کرتے ہیں اور ادھر دشمن کو چند گھڑیوں میں ہی مغلوب کر لیتے ہیں۔فرماتا ہے کہ تم مسلمانوں کی موجودہ کمزور حالت کو دیکھ کر یہ مت خیال کرو کہ ان کا مستقبل بھی ایسا ہی ہوگا۔تمہیں آج یہ بے شک کمزور دکھائی دیتے ہیںلیکن درحقیقت یہ ایسے دلیر اور بہادر ہیںکہ جب ہمارے حکم کے ماتحت یہ تلوار اپنے ہاتھ میں اٹھائیں گے تو ادھر حملہ کریں گے اور ادھر منٹوں میں اپنا سارا کام ختم کر کے دشمن کو مغلوب کر لیں گے اور فتح و کامرانی کا پرچم لہرانے لگیں گے۔چنانچہ دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جس قدر غزوات ہوئے ان میں قلعہ بند جنگوں کے سوا کوئی ایک جنگ بھی ایسی نہیں جو چند گھنٹوں میں ختم نہ ہوگئی ہو۔احزاب کی جنگ بے شک لمبی ہوئی مگر اس لئے کہ وہاں صحابہؓ کو خود یہ حکم دیا گیا تھا کہ تم نے حملہ نہیں کرنا صرف دفاع کرنا ہے۔خیبر کی جنگ لمبی ہوئی مگر وہ قلعہ بند جنگ تھی۔بنو قریظہ سے جو جنگ ہوئی وہ بھی قلعہ بند جنگ تھی ان کو چھوڑ کر جتنی بھی جنگیں ہوئیںہیںان میں سے کوئی ایک جنگ بھی ایسی نہیں جس کا چند گھنٹوں میں فیصلہ نہ ہو گیا ہو۔اسی طرح آپ نے جو سریے بھجوائے وہ بھی اسی طرح حیرت انگیز طور پر کامیابی حاصل کرکے واپس آتے رہے۔یہ ایک ایسی غیر معمولی بات ہے جسے دیکھ کر حیرت آتی ہے کہ ایک جنگ نہیں دو جنگیں نہیں بیس سے زیادہ جنگیں ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش آئیں مگر تمام جنگیں ایسی ہیں جو دنوں کی بجائے گھنٹوں بلکہ منٹوں میں ختم ہوگئیں۔بدر کی جنگ بہت بڑی جنگ تھی مگر اس کا کتنی جلدی فیصلہ ہوگیا۔حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کہتے ہیں میرے دائیں بائیںدو انصاری لڑکے کھڑے تھے اور میں اپنے دل میں افسوس کر رہا تھا کہ آج مجھے اپنے دل کے حوصلے نکالنے کا کوئی موقع نہ ملا کیونکہ میرے دائیں بائیں پندرہ پندرہ برس کے دو انصاری لڑکے کھڑے ہیں اگر ماہر فن سپاہی میرے ارد گرد ہوتے تو میں نڈر ہو کر حملہ کر سکتا اور سمجھتا کہ میری پیٹھ بچانے والے موجود ہیں۔وہ کہتے ہیں ابھی یہ خیال میرے دل میں پیدا ہی ہوا تھا کہ مجھے دائیں طرف سے کہنی لگی میں نے مڑ کر دیکھا تو دائیں طرف کے انصاری لڑکے نے آہستگی سے میرے کان میں کہا چچا وہ ابو جہل کون سا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ دیا کرتا تھا میرا جی چاہتا ہے کہ آج اس سے بدلہ لوں۔وہ کہتے ہیں ابھی میں اس کے سوال کا کوئی جواب دینے نہیں پایا تھا کہ مجھے بائیں طرف سے کہنی لگی۔میں نے مڑ کر دیکھا تو بائیں طرف کے انصاری لڑکے نے آہستگی سے جھک کر میرے کان میں کہا چچا وہ ابوجہل کون سا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ دیا کرتا تھا میرا جی چاہتا ہے کہ آج اس سے