تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 139
بدلہ لوں۔حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کہتے ہیںکہ باوجود تجربہ کار جرنیل ہونے کے میرے دل میں یہ خیال تک نہیں آتا تھا کہ میں ابوجہل کو مار سکوں گا۔اس لئے جب ان دو انصاری لڑکوں نے یہ سوال کیا تو میں حیران رہ گیا کہ میں اپنے دل میں کیا خیال کر رہا تھا اور انہوں نے مجھ سے کیا سوال کر دیا۔میں نے اپنی انگلی اٹھائی اور کہا وہ جو قلب لشکر میں کھڑا ہے جس کے آگے دوجرنیل ننگی تلواریں لئے پہرہ دے رہے ہیں وہ ابو جہل ہے۔وہ کہتے ہیںابھی میری انگلی نیچے نہیں ہوئی تھی کہ جس طرح عقاب چڑیا پر حملہ کرتا ہے وہ دونوں لڑکے تیزی کے ساتھ گئے اور پیشتر اس کے کہ وہ ننگی تلواریں سونت کر پہرہ دینے والے جرنیل سنبھلتے انہوں نے ابو جہل کو مار گرایا حالانکہ ان جرنیلوں میں سے ایک ابوجہل کا اپنا لڑکا تھا۔جب ابوجہل مارا گیا جو فوج کا کمانڈر تھا تو جنگ درحقیقت ختم ہو گئی بعد میں جو جنگ ہوئی اس کی حیثیت صرف دفاعی رہ جاتی ہے مگر وہ جنگ بھی چند گھنٹے میں ختم ہو گئی۔( بخاری کتاب الـجھاد والسیر باب فضل من شھد بدرًا ) اسی طرح احد کی جنگ میں ہوا بے شک بعدمیں مسلمانوں کی اپنی غلطی کی وجہ سے دشمن کچھ نقصان پہنچانے میں بھی کامیاب ہوگیا مگر بہر حال ایک دو گھنٹہ میں ہی مسلمانوں نے دشمن کو مغلوب کر لیا تھا حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓکے زمانہ میں بعض دفعہ دس دس پندرہ پندرہ بیس بیس دن لڑائیاں ہوتی رہی ہیں اور لڑائیاں بھی ایسی جو قلعہ بند نہیں تھیں کھلے میدانوں میں ایک دوسرے کا مقابلہ ہوتا تھا اور متواتر کئی کئی دن تک چلا جاتا تھا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چند سو ایک ہزار کے مقابلہ میں آتے تھے یا دو ہزار دس ہزار کے مقابلہ میں کھڑ ے ہوتے تھے اور چند گھنٹوں میں فیصلہ ہو جاتا تھا۔تاریخ میں کوئی ایک مثال بھی تو ایسی نہیں ملتی کہ جنگ میں شام کے وقت یہ کہا گیا ہو کہ اب لڑائی بند ہو صبح سے پھر جنگ کی جائے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب لڑائیاں گھنٹوں اور منٹوں میں ختم ہو جاتی تھیں۔پس فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًا میں اللہ تعالیٰ اس حقیقت کا انکشاف فرماتا ہے کہ مسلمان غیر معمولی طاقت رکھنے والے ہوں گے۔دشمن کی صفوں میں صبح صبح گھس جائیں گے اور ابھی صبح ختم نہیں ہو گی کہ ان کی لڑائی ختم ہو جائے گی۔کوئی شخص ایک جنگ بھی تاریخ میں سے ایسی پیش نہیں کر سکتا جس میں لڑتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کو دوسرا دن آگیا ہو بلکہ ابھی شام بھی ہونے نہیں پاتی تھی کہ لڑائی ختم ہو جاتی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ستائیس۲۷ غزوات میں حصہ لیا اور اڑتیس ۳۸سرایا ہیںجو مختلف مواقع پر آپ نے بھجوائے مگر کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی جب شام کو دشمن سے کہا گیا ہو کہ اب ٹھہر جائو صبح پھر تم سے جنگ کی جائے گی۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہی صحابہ ؓ تھے جو پندرہ پندرہ بیس بیس دن تک لڑائی کرتے چلے جاتے تھے تب انہیں فتح حاصل ہوتی تھی۔