تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 137
توڑ کر پراگندہ کر دیتے ہیں۔جرنیل کے فرائض میں سے یہ ایک اہم ترین فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی صفوں کو ٹوٹنے نہ دے کیونکہ جب دشمن صفوں کو توڑ کر اندر داخل ہو جائے تو فوج پراگندہ ہو جاتی ہے اور متحدہ مقابلہ کی قوت کو کھو بیٹھتی ہے۔چنانچہ ہمیشہ ماہر فن جرنیل کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ دشمن کے شدید حملہ کے باوجود اپنی صفوں کو قائم رکھے لیکن کبھی کبھی اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ (الانفال:۱۷)کے مطابق دشمن کا زور اتنا بڑھ جاتا ہے کہ افسر سمجھتا ہے کہ گو مجھ میں اتنی طاقت ہے کہ میں واپس لوٹ کر اس پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہوںمگر اس وقت حالت ایسی ہے کہ دو یا چار یا دس منٹ کے لئے صفوںکے ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اس وقت ماہر فن جرنیل کا یہ طریق ہوتا ہے کہ وہ اپنی صفیں پیچھے کر لیتا ہے انگریزی میں اسے آرڈرلی رٹریٹ یعنی باقاعدہ پیچھے ہٹنا کہتے ہیںمطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم نے اپنی صفوں کو قائم رکھتے ہوئے تھوڑی دیر کے لئے اپنے آپ کو پیچھے ہٹا لیا۔پس صفوں کو قائم رکھنا جنگ کے ضروری اصول میں سے ہے۔اسی طرح حملہ کرنے والوں کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح دشمن کی صفوں میں گھس جائیں۔انگریزی میں اس طرح داخل ہونے کی کوشش کو سپیئر ہیڈspearhead کہتے ہیں۔جب دشمن کی صفوں میں مقابل کا لشکر داخل ہوجائے تو دشمن پراگندہ ہو جاتا ہے اور اس کا جرنیل اپنے لشکر کو کوئی حکم نہیں دے سکتا۔ایک طرف والوں کو حکم دے تب بھی اور دوسری طرف والوں کو حکم دے تب بھی،درمیان میں غنیم کھڑا ہوتا ہے اور وہ آسانی سے ان کی تمام تدابیر کا ازالہ کر سکتا ہے۔غرض دشمن کے دبائو کے وقت بچائو کی یہی صورت ہو سکتی ہے کہ یا تو جرنیل اتنا ہوشیار ہو کہ وہ فوراً اپنی فوجیں پیچھے ہٹا لے اور یا پھر ان میں اتنی اخلاقی قوت باقی ہو کہ اگر جرنیل فوج کے انتشاراور اس کی پراگندگی کی حالت میں بھی حکم دے کہ اتنا پیچھے ہٹ جائو تو فوج اتنا پیچھے ہٹ جائے ورنہ اس کی شکست میںکوئی شبہ نہیں ہوتا۔پس فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًا میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ صبح ہی صبح دشمن کی صفوں میں گھس بھی جاتے اور اسی وقت ان کو توڑ پھوڑ کر بھی رکھ دیتے ہیںدیر ہی نہیں لگتی۔ان معنوں سے اس شبہ کا بھی ازالہ ہو جاتا ہے کہ فَالْمُغِيْرٰتِ صُبْحًا میں یہ پہلے ہی بتایا جا چکا تھا کہ وہ صبح کے وقت حملہ کرتے ہیں اور اب فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًا میں بھی یہ بتایا گیا ہے کہ وہ صبح ہی صبح دشمن پر حملہ کرتے ہیں۔جب صبح کے وقت حملہ کرنے کا ذکر پہلے بھی آچکا تھا تو دوبارہ صبح کے وقت دشمن کی صفوں میں ان کے داخل ہونے کا کیوں ذکر کیا گیا ہے اور یہ تکرار اپنے اندر کیا حکمت رکھتا ہے؟سو اس کا جواب یہ ہے کہ فَالْمُغِيْرٰتِ صُبْحًا کے بعد فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًا میں وہی مضمون بیان نہیں کیا گیا بلکہ ایک نیا مضمون بتا یا گیا ہے۔