تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 136

مقابلہ میں اپنے گھروں سے نکل آئے اور یہ مضمون لفظ جَـمْعٌ سے نکلتا ہے کیونکہ یہاں یہ نہیں فرمایا گیا کہ دشمن پر حملہ کرتے ہیں کہ اس میں عورت،بوڑھا،بچہ سب شامل ہوں بلکہ فرمایا کہ جَـمْعٌ یعنی لشکر میں گھس جاتے ہیںیعنی ان کا حملہ اکے دکے کمزور ضعیف پر نہیں ہوتا ہمیشہ دشمن کے مجتمع لشکر پر حملہ کرتے ہیں۔پس فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًا میں دونوں طرف اشارہ ہے اس طرف بھی کہ وہ حملہ کرتے وقت اس بات کو مدّ ِنظر رکھتے ہیں کہ رات کے وقت حملہ نہ ہو بلکہ صبح کو ہو اور حملہ ایسی حالت میں ہو کہ جب جَمْعًا یعنی دشمن کا لشکر ان کے سامنے کھڑا ہو۔گویا ان کے گھروں سے نکال کر وہ مقا بلہ کریں گے سوتے دشمن پر اچانک حملہ نہیں کریںگے۔فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًا میں مسلمانوں کی شیدائیت اور قربانی کی طرف اشارہ دوسرے جب دشمن ان کے مقابل پر آتا ہے تب بھی ان کا جوش و خروش قائم رہتا ہے یہ نہیں ہوتا کہ دور سے تو جوش و خروش دکھاتے جائیں اور دشمن کے پاس پہنچ کر ان کے جوش سرد ہو جائیں۔غرض بِهٖ کی ضمیر اگر صُبْحٌ کی طرف لے جائو تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ صبح کو وہ ایسے وقت حملہ کریں گے جب دشمن کا لشکر ان کے مقابلہ میں جمع ہو جائے اور اگر بِهٖ کی ضمیر نَقْعٌ کی طرف لے جائو تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ ان کا جوش دشمن کو دیکھ کر ڈھیلا نہیں ہوتا بلکہ جب دشمن کو وہ اپنے مقابل میں صفیں باندھے کھڑا دیکھتے ہیں تو ان کا جوش اور بھی بڑھ جاتا ہے اور وہ حملہ کرتے ہوئے اس کی صفوں کے اندر جا گھستے ہیں۔ان میں سے ایک معنوں میں ان کے اخلاق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور دوسرے معنوں میں ان کی اسلام کے لئے شیدائیت اور قربانی کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًا میں مسلمانوں کے جلد دشمنوں پر غالب آجانے کی طرف اشارہ فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًا میں اگر بِهٖ کی ضمیر صُبْحٌ کی طرف ہو تو اس کے ایک اور بھی لطیف معنے ہو جائیں گے یعنی اس کے صرف اتنے معنے نہیں ہو ں گے کہ صحابہؓ کبھی رات کو حملہ نہیں کرتے بلکہ اس میں ایک لطیف اشارہ اس امر کی طرف بھی پایا جاتا ہے کہ وہ صبح ہی صبح دشمن کی صفوں کو توڑ دیتے ہیں۔ابن جنی نے بھی یہی معنے کئے ہیںوہ کہتے ہیں مَیَّـزْنَ بِہٖ جَـمْعًا اَیْ جَعَلْنٰہُ شَطْرَیْنِ اَیْ قِسْمَیْنِ وَشِقَّیْنِ (روح المعانی زیر سورۃ العادیات ) گویا ان کا حملہ بڑا کامیاب ہوتا ہے زیادہ دیر نہیں لگتی کہ وہ دشمن کی صفوں میں گھس جاتے اور ان کو پوری طرح مغلوب کر لیتے ہیں۔وَسَطْنَ کا لفظ بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ خالی سامنے کھڑا ہونے سے وَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًا کے الفاظ صادق نہیں آسکتے۔یہ الفاظ اسی صورت میں صادق آسکتے ہیںجب دشمن کی صفوں کو توڑ کر ان کے اندرداخل ہوجانا اس کے مفہوم میں شامل ہو۔اور درحقیقت اس آیت کا یہی مطلب ہے کہ وہ کفار کے لشکر میں گھس جاتے اور ان کی صفوں کو