تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 135
روک سکے گا۔وہ اغارت بھی کریں گے اور جوش وخروش سے گردوغبار بھی اڑاتے جائیں گے یعنی وہ کچے سوار نہیں کہ دوڑیں تو اغارت کی طرف سے توجہ ہٹ جائے اوراغارت کریں تو دوڑ نہ سکیں بلکہ وہ دونوں کام ایک وقت میں کرتے ہیں گھوڑے تیز دوڑاتے ہوئے بھی اپنے جنگی فنون ادا کرنے میں کوتاہی نہیں کرتے یہ نہیں ہوتا کہ گھوڑے تیز دوڑارہے ہوں تو انہیں اپنی تلواروں اور نیزوں کا ہوش نہ ہو اور تلواریں اور نیزے سنبھالے ہوئے ہوں تو گھوڑوں کو تیز دوڑانے سے قاصر ہوں یہ دونوں باتیں ان میں بیک وقت پائی جائیں گی اور وہ اپنے فن میں ماہر ہوںگے۔فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًاۙ۰۰۶ اور اسی (صبح کے وقت ) میں لشکر میں گھس جاتے ہیں۔تفسیر۔وَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًا میں بِهٖ کی ضمیر نَقْعٌ کی طرف یا صُبْحٌ کی طرف فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًا میں بِهٖ کی ضمیر نَقْعٌ کی طرف بھی جاتی ہے اور صُبْحٌ کی طرف بھی۔اگر بِهٖ کی ضمیر نَقْعٌ کی طرف سمجھی جائے تو اس آیت کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ دشمن تک برابر گرد اڑاتے چلے جاتے ہیں یعنی جب دشمن کے پاس پہنچتے ہیں تب بھی ان کا جوش وخروش کم نہیں ہوتا بلکہ جس طرح دور سے گھوڑےدوڑاتے اور خاک اڑاتے آتے ہیں دشمن کے پاس پہنچ کر بھی ان کی یہ حالت قائم رہتی ہے اور وہ خاک اڑاتے ہوئے بے جھجک اور بے رکے دشمن کی صفوں پر حملہ آور ہوجاتے ہیں۔اس آیت میں بھی ان کی بہادری کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور درحقیقت صحابہؓ ایسے ہی نڈر اور بہادر تھے اور تاریخی واقعات ان کی اس بہادری پر شاہد ہیں۔اگر فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًا میں بِهٖ کی ضمیر صُبْحٌ کی طرف پھیری جائے تو اس آیت سے مراد یہ ہوگی کہ وہ صبح کے وقت دشمنوں کی صفوں میں گھس جاتے ہیں۔اس میں پھر یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ صحابہؓ کبھی اچانک حملہ نہیں کرتے بلکہ وہ اسی وقت حملہ کرتے ہیں جب دشمن ان کے مقابل میں نکل آئے۔آج انگریزوںکو دیکھ لو، روسیوں کو دیکھ لو، امریکہ کے رہنے والوں کو دیکھ لو۔سب کوشش کرتے ہیں کہ وہ یک دم سو تے دشمن پر حملہ کریںاور اس کو اپنی بہت بڑی خوبی سمجھا جاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہمارے مومن بندے ایسے نہیں ہوں گے وہ صبح کے وقت جائیں گے شور مچاتے جائیں گے اور اگر پھر بھی دشمن باہر نہیں نکلا تو وہ حملہ نہیں کریں گے بلکہ انتظار کریں گے یہاں تک کہ دشمن ان کے