تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 132
پاس ایک مقام کا نام ہے۔بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ مقام منیٰ کا حصہ ہے حضرت علی ؓنے اسی وجہ سے وَ الْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا سے وہ حاجی مراد لئے ہیں جو عرفہ سے مزدلفہ کی طرف اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف تیزی سے آتے ہیں۔(فتح البیان سورۃ العادیات زیر آیت فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًا) اور نَقْعٌ کے معنے اَلْقَاعُ کے بھی ہوتے ہیں یعنی صاف میدان اور نَقْعٌ کے معنے مَـحْبَسُ الْمَآءِ یعنی تالاب کے بھی ہیں (اقرب)۔نَقْعٌ کے معنے ابو عبیدہ نے آواز بلند کرنے کے بھی کئے ہیں اور لبید کا ایک شعر اس کی تائید میں پیش کیا ہے کہ انہوں نے بھی نَقْعٌ کا لفظ آواز بلند کرنے کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بھی ایک اثر منقول ہے جس میں انہوں نے نَقْعٌ کے معنے آواز بلند کرنے کے کئے ہیں۔چنانچہ جب حضرت خالدؓ بن ولید کی وفات کی خبر آپ کو ملی توکسی نے کہا عورتیں وہاں رو رہی ہیں حضرت عمررضی اللہ عنہ نے کہاکیا بات ہے کہ عورتیں بیٹھی ہوئی رورہی ہیں اور کوئی نقع اور لقلقہ نہیںیعنی بلند آواز سے شور کی کوئی آواز سنائی نہیں دیتی۔(اسد الغابۃ زیر خالد بن ولید) تفسیر۔فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًا میں بِہٖ کی ضمیر صبح کی طرف جاتی ہے یعنی فَاَثَرْنَ وَقْتَ الصُّبْحِ نَقْعًا وہ صبح کے وقت خوب غبار اڑائیں گے۔یہاں بھی ایک لطیف بات بیان کی گئی ہے جو مسلمانوں کی شجاعت کی طرف اشارہ کرتی ہے اصل بات یہ ہے کہ فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًا سے یہ شبہ پیدا ہوتا تھا کہ مسلمانوں کا رات کو اطمینان سے بیٹھ جانا، کھانا پکانا اور دشمن پر آتے ہی حملہ نہ کرنا شاید اس لئے ہے کہ قریب پہنچ کر ان کا جوش جاتا رہتا ہے۔پہلے اگر ان سے جوش ظاہر ہوتا ہے اور وہ اپنے گھوڑوں کو ایڑیاں مارتے اور ان کو دوڑاتے اور کداتے ہوئے میدان میں پہنچتے ہیں تو اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ ہمیں پہنچتے ہی لڑائی نہیں کرنی پڑے گی بلکہ ہم اطمینان سے رات بھر آرام کریں گے پس ان کا وہ جوش جس کا ان کی طرف سے پہلے اظہار ہوتا ہے اس قابل نہیں کہ اس کی تعریف کی جائے کیونکہ یہ جوش وہ ا س وقت دکھاتے ہیں جب دشمن سے مقابلہ ابھی دور کی بات ہوتا ہے قریب پہنچ کر ان کا تمام جوش سرد ہو جاتا ہے اور وہ دشمن پر حملہ کرنے کی بجائے کھانا پکانے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًا میں اس شبہ کا ازالہ کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہ بالکل غلط ہے مسلمان صرف اسی وقت بہادری اور شوق نہیں دکھاتے جب دشمن دور ہوتا ہے بلکہ اس وقت بھی ان کا جوش تیز ہوتا ہے جب دشمن سامنے آجاتا ہے اور اس جوش سے حملہ کرتے ہیں کہ صبح کے وقت بھی گردوغبار اڑا کر جوّ کو بھر دیتے ہیں۔یہ قاعدہ ہے کہ صبح کے وقت شبنم سے گرد دبی ہوئی ہوتی ہے لیکن دوپہر اور شام کو گرد ڈھیلی ہو جاتی ہے اور ادنیٰ حرکت سے بھی اٹھ پڑتی ہے۔پس صبح کے وقت گرد اڑانے سے جہاں ان کے طریق عمل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ کبھی رات کو حملہ نہیں کرتے وہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے شوق جہاد کی