تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 133
طرف بھی اشارہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ وہ صبح کے وقت دشمن کو ہوشیار کرکے حملہ کرتے ہیں اور پھر اتنے جوش سے حملہ کرتے ہیں کہ صبح کی بیٹھی ہوئی غبار بھی اڑنے لگ جاتی ہے شام کے وقت تو اڑاہی کرتی ہے چنانچہ دیہات میں شام کے وقت جب جانور چراگاہوں سے واپس آتے ہیں تو گردوغبار سے تمام جوّ بھرا ہوا ہو تا ہے کیونکہ دن بھر کی دھوپ کی وجہ سے تمام ذرات خشک ہوکر ہوا میں ادھر ادھر پھیلے ہوئے ہوتے ہیں لیکن صبح کے وقت یہ حالت نہیں ہوتی اس وقت شبنم پڑ کر غبار کو کم کر دیتی ہے۔مگر فرماتا ہے مسلمان اتنی شدت اوراتنے جوش سے حملہ کرتے ہیں کہ صبح کے وقت تمام جوّ گردو غبار سے اَٹ جاتا ہے حالانکہ وہ وقت ایسا ہوتا ہے جب گردو غبار سے جوّ صاف ہوتا ہے۔فَاَثَرْنَ بِهٖ میں ضمیر سے مراد فعل اغارت فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًا میں بِہٖ کی ضمیر بالمعنیٰ فعل اغارت کی طرف بھی جا سکتی ہے یعنی فَاَثَرْنَ بِـاِغَارَتِـھِمْ یا اَثَرْنَ بِفِعْلِ اِغَارَتِـہِمْ۔اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ اغارت کے فعل کی وجہ سے گرداڑانے لگتے ہیں یعنی اغارت اس شدت سے کرتے ہیں کہ اس سے گرد اڑنے لگتی ہے۔اس طرح یہاں باء سببیہ ہو جائے گی اور مطلب یہ ہوگا کہ اَثَرْنَ لِسَبَبِ اِغَارَتِـہِمْ نَقْعًا۔نَقْعًا کی تنوین سے کثرت اور شدت مراد ہے یعنی اَثَرْنَ بِفِعْلِ اِغَارَتِـہِمْ نَقْعًا کَثِیْـرًا وہ بے انتہا گرد اڑاتے ہیں۔یہ بات بھی مسلمانوں کے شوق اور ان کی دلیری پر دلالت کرتی ہے۔اچانک حملہ کرنا ہو تو لوگ کہتے ہیں آہستہ چلو گرد نہ اڑائو ایسا نہ ہو کہ دشمن کو پتہ لگ جائے۔مگر خالی گرد نہیں اڑاتے بلکہ بے انتہا گرد اڑاتے ہیں۔باء اس جگہ ملابست کی بھی ہو سکتی ہے اس لحاظ سے آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ بڑے ماہر فن ہیں کیونکہ بے تحاشاگھوڑا دوڑانا فی ذاتہٖ ایک فن ہے جو مہارت چاہتا ہے اور بے تحاشا گھوڑا دوڑاتے ہوئے اپنا نیزہ سنبھال کر رکھنا تا کہ دشمن پر حملہ کیا جاسکے یہ دوسرا فن ہے۔پس فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًا کے یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ اغارت کے ساتھ ساتھ گھوڑے بھی بے تحاشا دوڑاتے اور اچھالتے چلے جاتے ہیں یعنی ایک طرف گھوڑے بھی دوڑاتے جاتے ہیں اور دوسری طرف لڑائی کا فن بھی قائم رہتا ہے۔بسا اوقات ایک شخص گھوڑا تو دوڑا لیتا ہے لیکن لڑائی کے فن کو قائم نہیں رکھ سکتا۔جب گھوڑا تیزی سے دوڑ رہا ہو تو وہ نیزے کو سنبھال کر نہیں رکھ سکتا اور نہ دشمن پر حملہ کرسکتا ہے بلکہ حملہ کرنے کے لیے اسے ٹھہرنا پڑتا ہے۔مگر ایک دوسرا شخص ایسا ہو تا ہے جو گھوڑے کو بھی تیز دوڑاتا جاتا ہے اور لڑ تا بھی جاتا ہے۔چنانچہ نیزہ بازی کے وقت عام طورپر دیکھا جاتا ہے کہ بعض سوار گھو ڑے کو دوڑاتے چلے آتے ہیں مگر جب میخ کے پاس آتے ہیں تو گھوڑے کو آہستہ کرلیتے ہیں تاکہ ان کا نشانہ خطا نہ جائے مگر جو اپنے فن میں ماہر ہوتے ہیں وہ اسی تیزی کے ساتھ گھوڑے کو دوڑاتے ہوئے میخ پر نیزہ مارتے ہیں اور اس کو اکھاڑ کر لے جاتے ہیں۔جب