تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 131

الْاَرْضِ اس نے سفر کیا اور دور نکل گیا۔اور صرف اَغَارَ کے معنے ہوتے ہیں اَسْـرَعَ وَدَفَعَ فِیْ عَدُ وِّہٖ وہ تیزی سے گیا اور اس نے اپنے گھوڑوں کو دشمن کی صفوں کے اندر ڈال دیااور اَغَارَ عَلَی الْقَوْمِ غَارَۃً وَ اِغَارَۃً وَ مَغَارًا کے معنے ہوتے ہیں دَفَعَ عَلَیْـھِمُ الْـخَیْلَ وَ اَخْرَجَھُمْ مِّنْ فَنَآءِھِمْ بِـھُجُوْمِہٖ عَلَیْـھِمْ وَ اَوْقَعَ بِـھِمْ انہوںنے حملہ کرکے دشمن کو ان کے صحنوں سے باہر نکالا اور پھر ان پر ٹوٹ پڑے (اقرب) پس مغیرات کے معنے ہوں گے (۱) دور دور نکل جانے والی جماعتیں (۲) اپنے گھوڑوں کو دشمنوں کی صفوں میں ڈالنے والی جماعتیں (۳)دشمن پر حملہ کرکے اسے ان کے صحن سے نکال دینے والی جماعتیں۔تفسیر۔مُغِیْـرَاتِ صُبْحًا میں مسلمانوں کی بہادری کا ذکر اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اس وصف کو بیان کیا ہے کہ وہ رات کو کبھی حملہ نہیں کریں گے تا ایسا نہ ہو کہ دشمن نا واقفیت کی حالت میں مارا جائے۔وہ صبح کے وقت حملہ کریں گے مگر حملہ ایسا شاندار ہوگا کہ دشمن فوراََاپنے گھروں سے نکل کر باہر آجائے گا۔یہ کیسا بہادری کا طریق ہے جو اسلام نے بطور سنت جاری کیا۔اس وقت انصاف وبہادری کی مدعی یورپین اقوام راتوں کو برابر دشمن پر حملہ کرتی ہیں اور غفلت میں حملہ کرنا اپنی خاص خوبی قرار دیتی ہیں۔مگر اسلام بتاتا ہے کہ مسلمان ایسا نہیں کریں گے وہ ہمیشہ صبح کے وقت حملہ کریں گے جو ثبوت ہوگا اس بات کا کہ مسلمان بہادر، نڈر اور رحم کرنے والے ہیں۔مُغِیْـرَات کا لفظ بھی ان کی دلیری طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ اغارت کے ایک معنے یہ ہیں کہ دشمن پر حملہ کرکے اسے گھروں سے نکالنا اور پھر اس کا مقابلہ کرنا گویا گھروں میں گھس کر بچوں، عورتوں،بوڑھوں کو مارنا ان کا طریق نہ ہوگا بلکہ دشمن کے لڑنے والے لوگوں کو گھروں سے للکار کر نکالنا اور پھر ان کی صفوف پر حملہ کرنا ان کا طریق ہوگا جو ان کے دلیرانہ حملہ کا ایک بہت بڑا ثبوت ہوگا اسی طرح صُبْحًا میں یہ اشارہ ہے کہ وہ رات کو حملہ نہیں کرتے بلکہ جب صبح ہوتی ہے تو اس وقت حملہ کرتے ہیں تاکہ دشمن غافل نہ ہو اور اسے مقابلہ کا پوراموقع ملے۔فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًاۙ۰۰۵ جس کے نتیجہ میں وہ اس(صبح کے وقت) میں غبار اڑاتے ہیں۔حلّ لُغات۔اَلنَّقْعُ۔اَلنَّقْعُ : اَلْغُبَارُ: نَقْعٌ کے معنے غبار کے ہیں۔نیز نَقْعٌ کے معنے اَلْاَرْضُ الْـحَرَّۃُ الطِّیْنِ یُسْتَنْقَعُ فِیْـھَا الْمَآءُ کے بھی ہیں یعنی وہ پتھریلی زمین جہاں پانی جمع کیا جاتا ہے اور نَقْعٌ مکہ کے