تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 120

ایک دفعہ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص نے مجھ سے وَ الْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا۔فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًا کے متعلق سوال کیاکہ اس سے کیا مراد ہے؟ میں نے کہا گھوڑے سوار جب اللہ تعالیٰ کی راہ میں دھاوا کرنے کے بعد واپس رات کو آتے ہیں توکھانا پکانے کے لئے آگ جلاتے ہیں۔اس نے جاکر حضرت علیؓ سے کہا انہوں نے کہا کیا کسی اور سے بھی پوچھا ہے؟ اس نے کہا ہاں عبداللہ بن عباسؓ سے پوچھا ہے۔انہوں نے کہا جائو اور ان کو بلالائو۔جب میں گیا تو حضرت علیؓ نے خفا ہوکر کہا کیا تو اس امر کا فتویٰ دیتا ہے جس کا تجھے علم نہیں۔پہلا غزوہ اسلام میں بدر تھا اور اس میں صرف دو گھوڑے ہمارے ساتھ تھے۔ایک گھوڑا زبیرؓ کا تھا اور ایک مقدادؓ کا۔پھر کہا الْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا سے مراد حاجی ہیں جو عرفہ سے مزدلفہ کی طرف اور پھرمزدلفہ سے منیٰ کی طرف آتے ہیں (عرفہ سے مزدلفہ تیزی سے آتے ہیں) ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ میں نے اس پر اپنے قول سے رجوع کرلیا (طبری زیر سورۃ العادیات)۔مگر باوجود اس کے کہ ابن جریر نے یہ روایت لکھی ہے۔ابن جریر بھی کہتے ہیں کہ اس کے معنے گھوڑوں کے سوا اور کچھ نہیں بنتے۔اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے سب شاگرد انہی معنوں کے قائل ہیں اور دوسرے علماء بھی یہی معنے مراد لیتے ہیں۔چنانچہ مجاہد، عکرمہ، عطاء، قتادہ اور ضحاک سب کا یہی قول ہے اور ابن عباسؓ اور عطاء سے یہ مروی ہے کہ گھوڑے اور کتے کے سوا کوئی ضَبْحٌ نہیں کرتا۔(طبری زیر سورۃ العادیات) حل لغات میں بھی بتایا جاچکا ہے کہ ضَبْحٌ اس آواز کو کہتے ہیں جو تیز دوڑتے وقت گھوڑوں کے سینوں سے پیدا ہوتی ہے۔پس باوجود اس روایت کے جس میں یہ ذکر کیاگیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے اپنے قول سے رجوع کرلیا ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ عبداللہ بن عباسؓ کا آخر تک یہی مذہب رہا۔اگر ایسا نہ ہوتا تو ان کے سب شاگرد انہی معنوں پر کیوں عمر بھر زور دیتے رہتے۔پس لغت کی شہادت اور ائمہ ادب کے اصرار کے بعد ہم مجبور ہیں کہ وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا سے گھوڑے ہی مراد لیں۔گو استعارۃً اس سے اونٹ بھی مراد لئے جا سکتے ہیںاور یہ جو کہا گیا ہے کہ اس آیت کوغزوات اسلامیہ پر اس لئے چسپاں نہیں کیا جا سکتا کہ جنگ بدر میں مسلمانوںکے پاس گھوڑے نہیں تھے میرے نزدیک درست نہیںبے شک بدر کی جنگ میں صحابہؓ کے پاس زیادہ گھوڑے نہیںتھے مگر بعد کی جنگوں میں وہ کثرت کے ساتھ گھوڑے رکھنے لگ گئے تھے۔بدر کی جنگ پر اس آیت کو چسپاں کرتے ہوئے ہم عَادِیَات سے استعارۃً اونٹ مراد لے لیں گے جس طرح وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا کے اصل معنے دوڑنے والے گھوڑوں کے ہیںلیکن ہم نے اس کے معنے سواروں کے کئے ہیںکیونکہ گھوڑا خود نہیں دوڑتا بلکہ سوار اسے دوڑاتا ہے اسی طرح ہم کہہ سکتے ہیںکہ گو وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا سے گھوڑے مراد ہیں مگر بدر میں اس سے استعارۃً اونٹ مراد تھے کیونکہ عربی زبان میں یہ عام طریق ہے کہ بعض دفعہ ایک بڑی چیز کا ذکر