تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 121
کر دیا جاتا ہے اور چھوٹی چیز کا ذکر اس میں خود بخود شامل سمجھا جاتا ہے۔مردوں کا ذکر کیا جاتا ہے تو عورتیں اس میںطبعی طور پر شامل سمجھی جاتی ہیں۔اسی طرح اغارت میں چونکہ گھوڑے زیادہ کام آیا کرتے ہیںاس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر کر دیا اونٹوں کا نام نہیں لیا مگر اونٹ جب جنگی کاموں میں استعمال ہوںاستعارۃً اس میں خود بخود آجاتے ہیں۔پس اگر جنگ بدر پر ان آیات کو چسپاںکرتے ہوئے عادیات سے اونٹ مراد لے لئے جائیںتو اس میں کوئی حرج نہیں، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ بعد میں جوں جوں دن گذرتے گئے صحابہ میں گھوڑوں کا استعمال بڑھتا چلا گیا خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھوڑے استعمال کرنے لگے یہاں تک کہ حدیثوں سے دس کے قریب گھوڑے اور گدھے ثابت ہیں (البدایۃ والنـھایۃ ذکر افراسہ و مراکیبہ صلی اللہ علیہ وسلم ) جو مختلف وقتوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے استعمال کئے۔بہر حا ل اکثر صحابہ کی یہ رائے ہے کہ اس سورۃ میں ان غزوات کی خبر دی گئی ہے جو مسلمانوں کو کفار سے پیش آئے چنانچہ ایک حدیث بھی معین صورت میں اس کی تائید میں آتی ہے۔ایک صحابی یہ بیان کرتے ہیں وَالْعٰدِيٰتِ کی سورۃکا شان نزول یہ تھا کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو کنانہ کی طرف ایک سریہ بھجوایا جس کے سردار المنذر بن عمر و الانصاری تھے(یہ لشکر گھوڑوں پر سوار تھا جیسا کہ حضرت علیؓ کی اوپر بیان کردہ روایت سے پتہ چلتا ہے کہ جب ان کو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے اس قول کی خبر پہنچی کہ عَادِیَاتِ ضَبْحًا سے گھوڑے مراد ہیںتو آپ نے فرما یا کہ گھوڑے تو ایک سریہ میں گئے تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھجوائے تھے) المنذر ان بارہ نقباء میں سے ایک تھے جنہوں نے مکہ میںرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور جن کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مدینہ منورہ میں اپنے اپنے قبیلہ کا سردار اور افسر مقرر فرمایا تھا۔ایک ماہ تک اس سریہ کے بارہ میں کوئی خبر نہ آئی جس پر منافقوں نے شور مچادیا اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ وہ سب کے سب مارے گئے ہیں۔ان کا مقصد ان افواہوں سے یہ تھا کہ مسلمانوں کے دل ٹوٹ جائیںاور آئندہ وہ کسی قسم کی قربانی کے لئے باہر نہ نکلیںجب انہوں نے اس رنگ میں جھوٹا پرا پیگنڈہ شروع کر دیا تویہ سورۃ نازل ہوئی جس میں اس سریہ کا نقشہ کھینچا گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ وہ سلامت ہیں انہوں نے دشمن پر حملہ کیا ہے اور وہ اپنے حملہ میں کامیاب رہے ہیںچنانچہ چند دنوں کے بعد سریہ واپس آگیا اور اس نے بتایا کہ جس طرح پیش گوئی کی گئی تھی ویسے ہی واقعات اس کے ساتھ پیش آئے ہیں۔(فتح البیان سورۃ العادیات زیر آیت وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا) یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سورۃ تو مکی ہے لیکن اگر اس روایت کو درست تسلیم کیا جائے تو اس کے معنے یہ بنتے