تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 119
طرف جائیں گے اور اس امر کی ذرا بھی پرواہ نہیں کریں گے کہ ان کے گھوڑے مرتے ہیں یا زندہ رہتے ہیں۔اگر ضَبْحٌ کے معنے خاص قسم کی تیز چال کے کئے جائیں تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ وہ سوار آہستہ چلنا برداشت نہیں کرسکیں گے اور اگر اس کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ تیزی سے لمبے لمبے ڈگ بھرتے چلے جائیں گے تب بھی اس کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ منزل مقصود سے پیچھے رہنا برداشت نہیں کرسکیں گے۔غرض تینوں صورتوں میں اس کا ایک ہی مفہوم ہوگا کہ سوار منزل مقصود کی طرف اپنے گھوڑے کو سرپٹ دوڑاتا چلا جائے گا مگر اس لئے نہیں کہ وہاں اس کی محبوبہ بیٹھی ہے جس کی ملاقات کے لئے وہ بے تاب ہورہاہے۔اس لئے بھی نہیں کہ وہاں کسی نے بڑے بڑے اچھے کھانے تیار کئے ہوئے ہیں اور اسے ان کھانوں میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔اس لئے بھی نہیں کہ وہاں اس کا مال و متاع پڑا ہوا ہے اور وہ ڈرتا ہے کہ کوئی چور اسے اٹھا کر نہ لے جائے۔اس لئے بھی نہیں کہ وہاں اس کے دوست احباب موجود ہیں اور وہ ان سے ملنے کے لئے مسافت کو جلد طے کرنا چاہتا ہے بلکہ وہ اس جگہ جارہا ہے جہاں دشمن اس کی جان لینے کا منتظر بیٹھا ہے اور اس لئے جارہا ہے کہ میں اس مقام پر پہنچ کر اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کردوں۔گویا ڈر اور خوف کی بجائے اس کے دل میں خوشی اور امنگ ہوگی اور وہ انتہائی مسرت اور شادمانی کے جذبات کے ساتھ میدان قتال کی طرف بڑھتا چلا جائے گا۔وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا میں مسلمانوں کی قلبی کیفیات کا ذکر پس وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا میں گو ذکر گھوڑوں کا ہے مگر حقیقتاً اس میں ان مسلمانوں کی قلبی کیفیات کو بیان کیا گیا ہے جو ان پر سوار ہوں گے۔وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا کے متعلق صحابہ کے اقوال اس آیت کے معنوں کے متعلق بھی مختلف روایتیں پائی جاتی ہیں۔عبداللہ (بن مسعودؓ) کہتے ہیں کہ اس سے مراد اونٹ ہیں۔حضرت علیؓ بھی یہی فرماتے ہیں کہ اس سے مراد اونٹ ہیں۔لیکن حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ اس سے مراد گھوڑے ہیں۔چنانچہ وہ ذکر کرتے ہیں کہ میں ایک دفعہ حج کے دنوں میں خانۂ کعبہ کے پاس حطیم میں بیٹھا ہوا عبادت کررہا تھا کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے کہا میں نے آپ سے ایک آیت کا مطلب دریافت کرناہے۔میں نے کہا پوچھو۔کہنے لگا وَ الْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا کے کیا معنے ہیں؟ میں نے کہا ا س سے گھوڑے مراد ہیں۔اس نے جاکر حضرت علیؓ سے اس کا ذکر کردیا یا کسی اور طرح حضرت علیؓ کو یہ بات پہنچ گئی جس پر آپ نے فرمایا یوم بدر میں تو ہمارے پاس گھوڑے نہ تھے۔گھوڑے تو پہلی دفعہ ایک سریہ میں گئے تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھجوایا تھا(فتح البیان سورۃ العادیات زیر آیت وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا)۔ابن جریر حضرت ابن عباسؓ کی ایک دوسری روایت میں اس واقعہ کا یوں ذکر کرتے ہیں کہ میں