تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 5

سورۃ کے آخری حصہ میں مخالفتِ انبیاء کا ذکر آجانے سے یہ خیال کر لینا کہ یہ حصہ تیسرے یا چوتھے سال کا ہے بالکل بعید از قیاس امر ہے۔ہم کُلّی طور پر انکارنہیںکرتے ممکن ہے یہ سورۃ تیسرے سال کی ہی ہو مگر اس وجہ سے اسے تیسرے یا چوتھے سال کے ابتدائی حصہ کی قرار دینا کہ اس میں مخالفتِ انبیاء کا ذکر آتاہے محض دشمنی اور عداوت کا نتیجہ ہے۔سورۃ الشمس کے متعلق سر میور کا خیال اور اس کی تردید ترتیب سر میور کہتے ہیں کہ یہ چند سورتیں یعنی سورۂ شمس اور اس سے دو پہلی اور دو بعد کی سورتیں یعنی سورۂ فجر، سورۂ بلد، سورۂ لیل اور سورۂ ضحی اظہار خیالات کا رنگ رکھتی ہیں اور ایسی ہی ہیں جیسے کوئی شخص اپنے نفس سے باتیں کر رہا ہو۔(A Comprehensive Commentry on the Quran by Wherry vol,4 page251) میور کے ان الفاظ کا مفہوم یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غارِ حرا میں رہ کر اپنی قوم کے حالات پر جو کچھ غور کیا اور اُس کے نتیجہ میں آپ کو جو خرابیاں اپنی قوم میں نظر آئیں اور جو کچھ فیصلے آپ کے دل نے اُن دنوں میں کئے اب ان سورتوں میں آپ ان کا اظہار کر رہے ہیں۔یوروپین مصنفین اس قسم کے اظہار ِ خیالات کو سولیلوکیز SOLILOQUIESکہتے ہیں یعنی دل کے خیالات سے متاثر ہو کر خود اپنے آپ سے باتیں کرنا۔گویا یوروپین مصنفین کے نزدیک یہ سورتیںکیا ہیں یہ وہ آہیں ہیں جو آپ کے تڑپتے ہوئے دل سے اُٹھیں، یہ وہ نالے ہیں جو قوم کی حالتِ زار پر آپ نے بلند کئے اور یہ وہ فغاں ہے جس نے حرا کی تاریکیوں میں ایک شور پیدا کیا۔دنیا اپنی عیاشیوںمیں مبتلا تھی، لوگ اللہ تعالیٰ سے غافل و بیگانہ ہو چکے تھے اور شیطانی افعال کو وہ اپنی زندگی کا لائحہ عمل بنا چکے تھے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کی حالت پر تنہائی کی گھڑیوں میں آہیں بلند کر رہے تھے، نالہ و فریاد سے ایک شور بپا کر رہے تھے، درد و کرب اور انتہائی اضطراب کے عالم میں اپنے دن گذار رہے تھے اور آخر آپ کی آہیں، آپ کے نالے اور آپ کی فریادیں ان سورتوں کی شکل میں دنیا پر ظاہر ہو گئیں۔دشمن نے یہ بات خواہ کسی رنگ میں کہی ہو مگر ہے ایک لطیف بات۔دشمن کی غرض تو ان الفاظ سے یہ ہے کہ ان سورتوں میں جن جذبات کا اظہار ہے وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے جذبات ہیں آپ اپنے دل میں جو کچھ سوچا کرتے اور جن جذبات و کیفیات سے آپ گذرا کرتے تھے اُنہی جذبات و کیفیات کا آپ نے ان سورتوں میں اظہار فرما دیا ہے مگر ہم جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ بھی اپنے کلام میں انسانی جذبات کو ظاہر کیا کرتا ہے۔اگر یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جذبات تھے توہم اس کے معنے یہ لیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت