تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 4
کوئی آثار نظر نہیں آتے تھے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو الہام ہوا ــ ’’ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیانے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا‘‘۔وہ مخالفتیں جو اب ہو رہی ہیں یا گذشتہ عرصہ میں ہو چکی ہیں ان کا کیسا مختصر مگر مکمل نقشہ اوپر کے الفاظ میں کھینچ کر رکھ دیا گیا ہے آخر یہ غور کرنے والی بات ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ بات کس نے بتا دی تھی کہ آپ کی دنیا میں شدید مخالفت ہو گی۔ایسی مخالفت کہ اس کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کو بھی سچائی کے اظہار کے لئے زور آور حملوں سے کام لینے کی ضرورت پیش آئے گی۔یہ امر ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس امر کے مدعی تھے کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا خادم ہوں۔پس جس ہستی نے ایک خادم اور غلام کو ایسے زمانہ میں جبکہ مخالفت کا نام و نشان تک نہیں تھا اس امر کی اطلاع دے دی کہ تیری مخالفت ہونے والی ہے۔ویری جیسے عقل مند کو اس سے سمجھ لینا چاہیے کہ وہ ہستی آقا کو بھی قبل از وقت خبر دے سکتی تھی مگر بوجہ اُس تعصب کے جو مسیحی پادریوں میں بالعموم پایا جاتا ہے اور بوجہ اس مخالفت کے جو لوگوں کو اسلام سے ہے پادری ویری کے لئے یہ سمجھنا بڑا مشکل ہے کہ ابتدائی زمانہ میں ہی جب مخالفت کا کہیں وجود نہیں تھا آپ کو اس کا کیونکر علم ہو گیا۔وہیری صاحب کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس میں محمدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے علم کا سوال نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے علم کا سوال ہے لیکن فرض کرو یہ سورۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی بنائی ہوئی ہے تب بھی انہیں اتنا سمجھ لینا چاہیے کہ تفصیلات کا بے شک علم نہ ہو لیکن قوم کے اعتقادات اور اُس کے رسوم و رواج کے بالکل خلاف ایک نئی بات پیش کرنے والا ہر شخص سمجھتا ہے کہ قوم میری مخالفت کرے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پہلی وحی کے نزول کے بعد ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں اور اُس نے آپ سے کہا کہ تیری قوم سخت مخالفت کرے گی یہاں تک کہ تجھے مکہ میں سے نکال دے گی۔توآپ نے کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ لوگ میری مخالفت کریں؟ اُس نے کہا آج تک کوئی ایسا رسول نہیں آیا جس کی اُس کی قوم نے مخالفت نہ کی ہو۔(صحیح بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی) پس اگر یہ سورۃ پہلے سال کی سمجھو تب بھی ورقہ بن نوفل نے آپ کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کر دیا تھا اور بتا دیا تھا کہ دنیا آپ کی مخالفت کرے گی۔الغرض محض مخالفت کا ذکر اس امر کا ثبوت نہیںہو سکتا کہ یہ سورۃ مخالفت کے قریب زمانہ کی یا خود مخالفت کے زمانہ کی ہے۔ہاں بعض تفصیلاتِ معیّنہ اس امر کی ایک غالب دلیل ہوتی ہیں کہ وہ اس زمانہ یا اُس کے قریب کی ہیں مگر قطعی ثبوت اور حجت وہ بھی نہیں ہو سکتیں۔بہر حال محض