تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 6
کے لئے صحیح انتخاب کیا اور ایسے شخص کو اس عظیم الشان کام کی سر انجام دہی کے لئے چنا جس کے اپنے جذبات بھی خدا تعالیٰ کے ارادوں کے ساتھ مل گئے تھے پس ہم دشمن کی اس بات کو ردّنہیں کرتے بلکہ ایک نئے نقطۂ نگاہ کے ماتحت تسلیم کرلیتے ہیں۔ہم کہتے ہیں اگر یہ صحیح ہے کہ ان سورتوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دکھ اور اس درد اور اس تالّم کا اظہار کیا گیا ہے جو آپ اپنی قوم کے متعلق محسوس کرتے تھے تو یہ امر بتاتا ہے کہ کس طرح محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غلاموں اور یتیموں کی حالت کو دیکھ دیکھ کر زار ہو رہے تھے۔کیا کیا خیالات تھے جو آپ کے دل میںپیدا ہوتے تھے اور کیا کیا جذبات تھے جو آپ کے دل میں ہیجان بپا رکھتے تھے۔آپ سمجھتے تھے کہ میری قوم جب تک اپنے ان افعال میں تبدیلی پیدا نہیں کرے گی وہ کبھی ترقی نہیں کر سکے گی۔تم اِسے انسانی کلام سمجھ لو۔تم اس کلام کو بناوٹی کلا م قرار دے دو بہر حال تمہیں تسلیم کرنا پڑے گاکہ جس انسان کے آگے آنے کی وجہ یہ ہو کہ ظلم اور استبداد کو میں برداشت نہیں کرسکتا، یتیموں اور بیکسوں کی آہ و زاری کو میں دیکھ نہیں سکتا، غریبوں اور ناداروں کے حقوق کا اتلاف کبھی جائز نہیں سمجھا جاسکتا، غلاموں پر تشدّد کبھی روانہیں رکھا جاسکتا اُس کی بڑائی اور اس کی نیکی اور اس کی عظمت کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔انہی حالات کو دیکھ دیکھ کر وہ حرا کی تاریکیوں کو پسند کرتا ہے، وہ دنیا سے ایک عرصہ تک جدا رہنا پسند کرتا ہے اور پھر جب وہ دنیا کی طرف واپس آتا ہے تو اس لئے نہیں آتا کہ وہ اپنے لیے مال چاہتا ہے اس لیے نہیں آتا کہ وہ اپنے لئے عزت چاہتا ہے، اس لئے نہیں آتا کہ وہ اپنے لئے حکومت چاہتا ہے بلکہ اس لئے آتاہے کہ قوم کے گرے ہوئے طبقہ کو ابھارے، اس کی برائیوں کو دور کرے اور اس کی اصلاح کر کے اسے دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی صف میں لاکر کھڑا کر دے۔میور کہتا ہے یہ سولیلوکیز SOLILOQUIESہیں یہ وہ باتیں ہیں جوانسان اپنے نفس سے کیا کرتا ہے، یہ وہ خیالات ہیں جو گہری خلوت میں انسان کے دل میں خود بخود پیدا ہو جایا کرتے ہیں لیکن اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہی خیالات تھے اور اگر آپ کے قلب کی گہرائیوں میں بار بار یہی جذبات موجزن رہتے تھے کہ ان غلاموں کو کون پوچھے گا، ان یتیموں کو کون پوچھے گا، ان مساکین کو کون پوچھے گا مجھے خلوت کو چھوڑ دینا چاہیے اور اس وقت تک مجھے دم نہیں لینا چاہیے جب تک بڑے بڑے رئیس اور سردار اپنے ان مظالم سے توبہ نہیں کرلیتے۔تو میں سمجھتاہوںیہی خیالات اپنی ذات میں اتنے پاکیزہ ہیں کہ دنیا کا کوئی ہوش مند انسان آپ کی فضیلت کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔بہر حال دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں یا تو قرآن مجید کو خدا تعالیٰ کا کلام قرار دیا جائے یا انسان کا۔اگر خدا تعالیٰ کا کلام مان لیا جائے تب تو کوئی اعتراض ہی نہیں رہتالیکن اگر یہ انسان کے خیالات ہیں تو ایسے پاک نفس انسان کے