تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 3
سے بھی پہلے الہام ہوا کہ ـ’’ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا ‘‘(تذکرہ صفحہ ۲۹۶،۲۹۷ ایڈیشن چہارم) اس الہام میں مخالفت کا ذکر ہے اور مخالفت کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کے زور آور حملوں کا بھی ذکرہے لیکن ایک تو دنیا کا لفظ استعمال کر کے مفہوم کو ایسا وسیع کر دیا کہ مسلمان سمجھیںشاید عیسائیوں کا ذکر ہے اور عیسائی سمجھیںشاید مسلمانوں کا ذکر ہے۔پھر بجائے خصوصیت سے یہ ذکر کرنے کے کہ صوفیاء بھی مخالفت کریں گے اور اکابراور علماء بھی مخالفت کریں گے عام رنگ میں اللہ تعالیٰ نے اس مخالفت کی طرف ان الفاظ میںاشارہ کر دیا کہ ’’ دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا ‘‘۔مگر یہ الہام آپ کو اس وقت ہوا جب آپ براہینِ احمدیہ لکھ رہے تھے اور لوگ آپ پر بڑ ا اعتقاد رکھتے تھے یہاں تک کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو بعد میںشدید مخالف ہو گئے اور احمدیت کی دشمنی کو انہوں نے انتہا تک پہنچا دیا اور جو اپنے تکبر اور رعونت کی وجہ سے کسی کی با ت ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے تھے انہوں نے بھی براہین احمدیہ کو پڑھ کر لکھا کہ ’’ہماری رائے میں یہ کتاب اس زمانہ میں اور موجودہ حالت کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی اور آئندہ کی خبر نہیں۔لَعَلَّ اللہَ یُـحْدِثُ بَعْدَ ذَالِکَ اَمْرًا ‘‘ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق لکھا کہ ’’ اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی وجانی و قلمی و لسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے ‘‘ پھر اس خیال سے کہ کہیں لوگ مبالغہ سمجھ کر اس رائے کو غلط نہ قرار دے دیں انہوں نے زور دیتے ہوئے لکھا کہ ’’ ہمارے ان الفاظ کو کوئی ایشیائی مبالغہ سمجھے تو ہم کوکم سے کم ایک ایسی کتاب بتادے جس میں جملہ فرقہ ہائے مخالفین اسلام خصوصاً آریہ سماج و برہمو سماج سے اس زور شور سے مقابلہ پایا جاتا ہو اور دو چار ایسے اشخاص انصار اسلام کے نشان دہی کرے جنہوں نے اسلام کی نصرت ِ مالی و جانی و قلمی و لسانی کے علاوہ حالی نصرت کا بھی بیڑااٹھا لیا ہو اور مخالفینِ اسلام اور منکرینِ الہام کے مقابلہ میں مردانہ تحدی کے ساتھ یہ دعویٰ کیا ہو کہ جس کو وجود الہام کا شک ہو وہ ہمارے پاس آکر اس کاتجربہ و مشاہد ہ کرلے اور اس تجربہ و مشاہد ہ کا اقوامِ غیر کو مزا بھی چکھا دیا ہو‘‘۔(اشاعۃ السنۃ جلد ۷، صفحہ ۱۶۹ جون، جولائی، اگست ۱۸۸۴ء ) اب دیکھو جس وقت دنیا تعریف کر رہی تھی، جب بڑے بڑے رئوساء اور نواب آپ سے خط و کتابت رکھتے اور آپ کو دعا کے لئے لکھتے رہتے تھے، جب علماء اور عوام آپ سے عقیدت رکھتے تھے اور جب مخالفت کے دنیا میں