تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 2
عقل ہے کہ اللہ تعالیٰ کو آئندہ مخالفت کا علم تھا یا نہیں لیکن پادری ویری اور ان کے ہم خیالوں کے نقطہ نگاہ کو مد نظر رکھ کر بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایسااجمالی ذکر مخالفت کا بھی اسی وقت آسکتا ہے۔جب کہ مخالفت کے آثار شروع ہو چکے ہوں۔اگر یہ لوگ قرآن کریم کو انسانی کلام سمجھتے ہیں تو بھی انہیں یہ خیال کرنا چاہیے کہ ہر شخص جو ایک نئی بات دوسروں کے سامنے پیش کرتا ہے وہ قدرتی طور پر اُن کے انکار کی امید بھی کرتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ وہ انکا ر کی شدت یا اس کی نوعیت کا اندازہ نہ لگا سکے مگر انکار و تردید کی امید ضرور رکھتا ہے آخر کون عقل مند یہ خیال بھی کر سکتا ہے کہ ایک شخص اپنی قوم کے عقائد کے خلاف اس کے مذہب کے خلاف اور اس کے رسم و رواج کے خلاف دعویٰ کرے اور پھر وہ یہ امید رکھے کہ لوگ مجھے فوراً ماننے لگ جائیں گے۔پس ضروری ہے کہ لوگ اس کی بات کا انکار کریں۔ہاں اگر وہ سچا ہو توآخر میں اللہ تعالیٰ کی مدد سے قبولیت کے آثار دیکھ لے گا۔جیسا کہ میں اوپر کئی مواقع پر بیان کر چکا ہوں یہ درست ہے کہ اگر مخالفت کی تفصیلات بیان کی جائیں تو ایک حکمت سے پُر کتاب ضرور اس امر کو ملحوظ رکھ لیتی ہے کہ وہ تفصیلات یا تو اشارے کنائے میں بیان ہوں اور یا ایسے وقت کے قریب بیان ہوں جب وہ واقعات رونما ہونے والے ہوں تا مخالف یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمیں انگیخت کی گئی ہے۔مخالفت کی انگیخت کا الزام دور کرنے کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ اگر پیشگوئی کے طور پر واقعات بیان کئے جائیں تو اس کے الفاظ چبنے والے نہ ہوں۔مگر یہ امر ہم صرف تفصیلات کے متعلق تسلیم کرتے ہیں۔محض یہ بات بیان کرنا کہ سچائی کی مخالفت ہوا ہی کرتی ہے یہ کوئی ایسا مضمون نہیں جس سے لوگ چڑ جائیں۔ہر روز ہر مجلس میں جب بھی صداقت کا ذکر ہو تو لوگ اس بات کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ہر نئی صداقت کی مخالفت ہوتی ہے مگر اس سے نہ انگیخت ہوتی ہے نہ کسی کے دل میں جوش پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی فتنہ و فسا درونما ہوتا ہے۔قرآن کریم کے متعلق تو پادری ویری کو قیاس کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ کئی صدیاں اس کے نزول کے بعد پیدا ہوئے ہیںاور عقل سے اس کے نزول کی تاریخیں معلوم کرنا چاہتے ہیں۔وہ سوچتے ہیں کہ چونکہ اس میںمخالفت کا ذکر ہے اور وہ بھی آپ کی مخالفت کا نہیں بلکہ ایک گذشتہ نبی کی مخالفت کا۔اس سے یہ استدلال ہوتا ہے کہ یہ آخری حصہ اس وقت کا ہے جب کہ آپؐکی منظم مخالفت مکہ میں شروع ہو گئی تھی۔مگر ہم یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ان کا طریق استدلال بالکل غلط ہے ایک ایسی مثال پیش کرتے ہیں جو تاریخی واقعات پر مبنی ہے اور جس سے کسی صورت میں بھی انکار نہیں کیاجاسکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بانی سلسلہ احمدیہ جن کا سب زمانہ تاریخی ہے ا ٓپ کو براہین احمدیہ کی اشاعت