تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 61
وَ لَا يَخَافُ عُقْبٰهَاؒ۰۰۱۶ اور وہ (اسی طرح ) ان (مکہ والوں ) کے انجام کی بھی پروانہیں کرے گا۔حلّ لُغات۔عُقْبٰی عُقْبٰی کے معنے ہوتے ہیں جَزَآءُ الْاَمْرِ۔کسی کام کی جزا۔اور عُقْبٰی کے معنے اٰخِرُ کُلِّ شَیْءٍ کے بھی ہوتے ہیں یعنی چیز کا آخری حصہ۔(اقرب) تفسیر۔وَ لَا يَخَافُ عُقْبٰهَا میں کفار مکہ کی تباہی کی طرف اشارہ عُقْبٰـھَا میں ھَا کی ضمیر دَمْدَمَ کی طرف جاتی ہے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب دَمْدَمَ نازل کرنے کا وقت آتا ہے اور کوئی قوم کلی ہلاکت کی مستحق ہو جاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ یہ نہیں دیکھتا کہ ان کے متعلقین کا کیا حال ہو گا یا یہ کہ اس سزا کا نتیجہ کیسا خطرناک نکلے گا۔بعض دفعہ ساری قوم ہلاک نہیں ہوتی بلکہ اس کا کچھ حصہ بچ رہتا ہے جو دنیا میں انتہا ء طور پر ذلیل ہوجاتا ہے مگر فرماتا ہے جب ہماری طر ف سے کسی قوم کو تباہ کرنے کا فیصلہ ہو جاتا ہے تو پھر ہم اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ اس قوم کے بقیہ افراد کیا کیا تکالیف اٹھائیں گے۔جب قوم کی اکثریت خدا تعالیٰ کے غضب کی مستحق ہو جاتی ہے اور خاموش رہنے والے گو مقابلہ نہیںکرتے مگر نبی کی تائید بھی نہیںکرتے تو وہ بھی اکثریت کے ساتھ ہی تباہ و برباد کر دیئے جاتے ہیں۔اس سے یہ مراد نہیں کہ اللہ تعالیٰ ظلم کرتاہے یا اندھا دھند عذاب نازل کر دیتا ہے بلکہ جس قوم کے استیصال کا وہ فیصلہ کرتا ہے انصاف کے ماتحت کرتا ہے اور جب کہ وہ خود اپنے انجام کو نہیں دیکھتی تو اللہ تعالیٰ اس کے انجام کو کیوں دیکھے۔اس آیت کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیںکہ کفار مکہ بھی ثمود کی طرح نبی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ جس طرح ثمود کو تباہ کرتے وقت اللہ تعالیٰ نے ایک عام عذاب نازل کیا تھا اسی طرح وہ اہل مکہ پر بھی ایک عام عذاب نازل کرے گا۔اس میںکوئی شک نہیں کہ ثمود کی قوم بہ حیثیت قوم تباہ ہو گئی تھی مگر مکہ والے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلبہ کے بعد بھی باقی رہے۔لیکن اس میں کوئی اعتراض کی بات نہیں۔بعض دفعہ تباہی جسمانی نہیںروحانی ہوتی ہے۔ثمود جسمانی طور پر کلی ہلاکت میں مبتلا ہوئے اور مکہ والے مذہبی طور پر۔چنانچہ ان کے مذہب اور طور وطریق کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔