تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 60
قَوَائِـمَہَا بِالسَّیْفِ یعنی اس نے اونٹوںکی کونچیں کاٹ دیں (اقرب)پس عَقَرُوْھَا کے معنے ہوں گے اس کی کونچیں کاٹ دیں۔تفسیر۔حضرت صالحؑ کے سمجھانے کے باوجود ثمود نے ان کی بات کی طرف کوئی توجہ نہ کی۔انہوں نے اسے جھٹلایا اور ناقہ کی کونچیں کاٹ دیں یعنی اپنے ارادوں کا انہوں نے علی الاعلان اظہار کر دیا اور کہہ دیا کہ تم خواہ کچھ کہو ہم تمہیںتبلیغ نہیں کرنے دیں گے۔فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا۪ۙ۰۰۱۵ جس پر ان کے رب نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاکت نازل کی اور اس (قوم) کو (مار کر زمین کے) برابر کر دیا۔حلّ لُغات۔دَمْدَمَ دَمْدَمَ الشَّیْءَ کے معنے ہوتے ہیں اَلْزَقَہُ بِالْاَرْضِ اسے زمین کے ساتھ پیوست کر دیا۔دَمْدَمَ اللہُ عَلَیْـھِمْ کے معنے ہوتے ہیں اَھْلَکَھُمْ۔خدا تعالیٰ نے ان کو ہلا ک کر دیا۔اور دَمْدَمَ فُلَانٌ عَلٰی فُلَانٍ کے معنے ہوتے ہیں کَلَّمَہُ مُغْضِبًا۔اُس سے غصہ کے ساتھ کلام کیا (اقرب) تفسیر۔عذاب کے متعلق فَسَوّٰىهَا کہنے سے انتہائی تباہی کی طرف اشارہ فرماتا ہے چونکہ انہوں نے ہمارے رسول کی بات نہ مانی اس لئے ہم نے ان پر عذاب نازل کیا اور عذاب بھی ایسا سخت کہ فَسَوّٰىهَا خد ا نے انہیںزمین کے ساتھ ملا دیا اور ان کے چھوٹوں اور بڑوں کو اس طرح تباہ کیا کہ ان کا نشان تک دنیا میں نہ رہا۔قرآن کریم اپنے کلام میں کیسی بلاغت کی شان رکھتا ہے کہ پہلے فرمایا تھا وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا ہم نے انسان کو معتدل القویٰ بنایا ہے اور خود انسانی نفس اس امر پر شاہد ہے کہ اسے کوئی نور آسمان سے ملنا چاہیے اب فرماتا ہے چونکہ انہوں نے اس تسویہ کی قدر نہ کی اور ہمارے احکام کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اس لئے ہم نے ان کا دوسری طرح تسویہ کر دیا کہ ان کا نشان تک دنیا سے مٹا دیا۔یہ بلاغت کا کمال ہے کہ جس چیز کا انہوں نے انکار کیا تھا عذاب کے معنوں میںبھی وہی لفظ لے آیا انہوں نے تسویۂ نفس سے انکار کیا تھا اللہ تعالیٰ نے وہی لفظ اس جگہ استعمال کر دیا اور فرمایا کہ چونکہ انہوںنے تسویہ سے انکار کیا تھا ہم نے ان کا اس رنگ میںتسویہ کر دیا کہ ان کا ملک تباہ کر دیا، ان کی عمارتیں گر گئیں، قوم ہلاک ہو گئی اور اتنا بڑا زلزلہ آیا کہ ان کا نشان تک باقی نہ رہا۔