تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 62

سُوْرَۃُالَّیْلِ مَکِّیَّۃٌ سورۂ لیل۔یہ سورۃ مکّی ہے۔وَھِیَ اِحْدٰی وَعِشْـرُوْنَ اٰیَۃً دُوْنَ الْبَسْمَلَۃِ وَ فِیْـہَا رُکُوْعٌ وَّاحِدٌ اور اس کی بسم اللہ کے سوا اکیس ۲۱ آیات ہیں اور ایک رکوع ہے۔سورۃ الّیل مکی ہے یہ سورۃ بقول مفسرین جمہور کے نزدیک مکّی ہے (فتح البیان سورۃ الّیل ابتدائیۃ)۔یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جمہور کا لفظ جو عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے اس کے کبھی کبھی تو یہ معنے ہوتے ہیں کہ اکثر کی رائے یہ ہے لیکن کبھی کبھی یہ لفظ صرف حسن کلام کے طور پر استعمال کر لیتے ہیں۔درحقیت سب تو الگ رہے اکثر بھی اس مسئلہ سے متفق نہیں ہوتے لیکن مصنف لکھ دیتے ہیں کہ جمہور کے نزدیک وہ اس طرح ہے اور اصل مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم اور ہمارے ہم خیال یُوں کہتے ہیں۔جمہور کے معنے اصطلاحی طورپر عظیم الشان کثرت کے ہیں اور جب یہ لفظ واقعہ میں عظیم الشان کثرت کے معنے رکھتا ہو اور صحیح طور پر انہی معنوں میں استعمال ہو تو بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ جب یہ معلوم ہوجائے کہ صحابہ کی بڑی اکثریت یا تابعین یا تبع تابعین کی غالب اکثریت فلاں معنوں پر قائم تھی تو یہ امر واقعہ میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے لیکن جیسا کہ میں اوپر بتا آیا ہوں کبھی کبھی جمہور کے معنے ضرورتاً یہ بھی لے لئے جاتے ہیں کہ مصنف اور اُس کے ہم خیالو ں کا کیا خیال ہے۔بعض دفعہ ایک معنوں کی رَو چل جاتی ہے۔ایک شخص کسی آیت کے ایک معنے لکھتا ہے پھر اس سے دوسرا نقل کرتا ہے اس کے بعد اس سے تیسرا نقل کرتا ہے پھر چوتھا اور پھر پانچواں نقل کرتاہے۔اس صورت میںجمہور کے معنے صرف اتنے ہی ہوتے ہیں کہ پانچ دس کتابوں میںایک ہی معنے لکھے ہوئے نظر آتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ جمہور کا لفظ لکھ کر صحابہ ؓ کی ایک لسٹ دے دی جاتی ہے کہ یہ یہ صحابی ان معنوں کے خلاف ہیں۔گویا جمہور سے اُن کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی ایک شخص کے معنے لے کر چونکہ لوگوں نے اُن کو پے در پے نقل کرنا شروع کر دیا اس لئے ہم کہہ رہے ہیںکہ جمہور کے نزدیک اس آیت کے یہی معنے ہیں یا دوسرے الفاظ میں جمہور سے ان کی مراد نقّالوں کی اکثریت ہوتی ہے نہ اُن لوگوں کی اکثریت جو صحابہؓ ہیں یا تابعین ہیں یا تبع تابعین ہیں۔لیکن اس سورۃ کے متعلق جو یہ بیان کیا گیا ہے کہ جمہور کے نزدیک مکی ہے یہ