تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 57

چنانچہ جب کہیں طَغَی الْکَافِرُ تو اس کے معنے ہوتے ہیں غَلَا فِی الْکُفْرِ کہ کافر شخص کفر میںحد سے بڑھ گیا۔اور طَغٰی فُلَانٌ کے معنے ہوتے ہیں اَسْـرَفَ فِی الْمَعَاصِیْ وَالظُّلْمِ۔وہ ظلم اور معاصی میںحد سے بڑھ گیا۔اور طَغَی الْمَآءُ کے معنے ہوتے ہیں اِرْتَفَعَ پانی بلند ہو گیا۔(اقرب) بعض نے کہا ہے کہ طَغْوٰی کے معنے گناہوں میں حد سے بڑھ جانے کے ہیںلیکن در اصل یہ معنے یائی کے ہیں واوی کے نہیں اور یہاں چونکہ طَغْوٰی ہے جو واوی ہے اس لئے اس کے معنے تَـجَاوُزٌ عَنِ الْقَدْرِ وَالْـحَدِّ کے ہی ہیں۔یعنی اپنے اندازہ اور حد سے آگے نکل جانا۔تفسیر۔استعدادی طاقتوں کے کچلنے کا نتیجہ اس آیت میںاللہ تعالیٰ نے کفار کے سامنے مثال پیش کی ہے اور انہیں بتایا ہے کہ دیکھو ثمود کے پاس نُور آیا پھر جیسا کہ تم خود مانتے ہو کیونکہ وہ عرب کے نبی تھے تمہارے آباء نے اس کو ردّ کر دیا اور بوجہ اندازہ و حدود سے آگے نکل جانے کے ردّ کیا یعنی وہ سَوّٰھَا کے مصداق نہ رہے اور اعتدال کو ترک کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ معتدل تعلیم اُن کی برداشت سے باہرثابت ہوئی۔یہاں اللہ تعالیٰ نے دَسَّ کا طریق بتایا ہے کہ وہ دو ہی طرح ہو سکتا ہے یا تو جتنی قوت انسان کے اندر موجود ہوتی ہے وہ اس سے آگے نکل جاتا ہے اور یا پھر جتنی قوت موجود ہوتی ہے اس سے پیچھے رہ جاتا ہے۔حد سے نکل جانا دونوں طرح ہی ہوتا ہے اس طرح بھی کہ انسان اگلی طرف کو چلا جائے اور اس طرح بھی کہ پچھلی طرف کو آجائے۔ا یسے کاموں سے فطرت کا نور مارا جاتا اور اس کی قوتیں کچلی جاتی ہیں۔فرماتا ہے ثمود کی بھی یہی کیفیت تھی وہ لوگ اپنے کاموں میں حد سے آگے نکل گئے تھے خدا تعالیٰ نے ایک وسطی تعلیم ان کے لئے نازل کی تھی مگر وہ اس درمیانی خط پر کھڑے ہونے کی بجائے کبھی ادھر چلے جاتے اور کبھی ادھر چلے جاتے۔درمیانی راستہ جو پل صراط ہوتا ہے اور جس پر ہر مومن کو اس دنیا میں چلنا پڑتا ہے اُس راستہ پر وہ نہیں چلتے تھے بلکہ یا دائیںطرف کو نکل جاتے تھے یا بائیںطرف کو نکل جاتے، اعتدال کو انہوں نے ترک کر دیا تھا۔اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا۪ۙ۰۰۱۳ جبکہ ان (کی قوم) میں سے سب سے بڑابد بخت (اس کی مخالفت کے لئے) کھڑا ہوا۔تفسیر۔مسلمانوں کی منظم مخالفت کی پیشگوئی اس آیت میں اسی مضمون کی طرف اشارہ ہے جس کی طرف سورۃ الغاشیہ کی آیت عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ میںاشارہ کیا گیا تھاکہ کفار ایک منظّم مخالفت شروع کرنے والے ہیں