تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 58

اب اس سورۃ میں اسی قسم کے ایک واقعہ کی طرف اشارہ کر کے بتایا ہے کہ جس طرح ثمود نے باقاعدہ لیڈر مقررکر کے مخالفت کی تھی اسی طرح کفار کرنے والے ہیںچنانچہ اس اَشْقَی النَّاس نے جس طرح حضرت ثمودؑ کو تبلیغ سے روکا تم بھی تھوڑے دنوں تک ایسے ہی منصوبے کرو گے اور اسلام کو اپنی مجموعی قوت سے مٹانے کی کوشش کرو گے مگر یاد رکھو جس طرح انہیںناکامی ہوئی اور وہ خدا تعالیٰ کے عذاب کا نشانہ بن گئے اسی طرح تم بھی اس مقابلہ میںکبھی کامیاب نہیںہو سکتے۔فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ نَاقَةَ اللّٰهِ وَ سُقْيٰهَاؕ۰۰۱۴ تب ان (یعنی ثمود کے آدمیوں) کو اللہ کے رسول نے کہا کہ اللہ ( کے دین ) کی (خدمت کے لئے وقف) اونٹنی کو (آزاد پھرنے سے ) اور اسے (گھاٹوں پر ) پانی پلانے سے مت روکو۔تفسیر۔یہ ایک نہایت لطیف مثال ہے مگر افسوس ہے کہ لوگوں نے اس کی حکمت کونہیں سمجھا اور انہوں نے خیال کر لیا ہے کہ وہ ناقہ اپنے اندر کوئی خاص عظمت اور شان رکھتی تھی جس کی کونچیں کاٹنے پر ثمود کی قوم اللہ تعالیٰ کے عذاب کا نشانہ بن گئی۔اسی لئے بعض مفسرین نے اس ناقہ کے متعلق یہ عجیب بات لکھ دی ہے کہ وہ پہاڑ سے پیدا ہوئی تھی (فتح البیان سورۃالاعراف زیرآیت وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ۔۔۔۔) عام اونٹنیوں کی طرح نہیں تھی حالانکہ نبی کی موجودگی میں یہ ہو ہی کس طرح سکتا تھا کہ نبی کو دکھ دینے کی وجہ سے تو قوم پر عذاب نازل نہ ہو اور ناقہ کی کونچیں کاٹنے پر عذاب نازل ہو جائے! اونٹنی کو آزاد پھرنے دینے کے حکم کا اصل مقصد اصل بات یہ ہے کہ حضرت صالح علیہ السلام عرب میں مبعوث ہوئے تھے اور عرب میں اونٹوں پر سواری کی جاتی تھی۔حضرت صالح علیہ السلام بھی اپنی اونٹنی پر سوار ہوتے اور ادھر ادھر تبلیغ کے لئے نکل جاتے۔لوگ کھلے طور پر حضرت صالحؑ کا مقابلہ کرنے سے ڈرتے تھے کیونکہ ان کے رشتہ دار موجود تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے صالحؑ کو کوئی تکلیف پہنچائی تو اس کے رشتہ دار ہم سے بدلہ لینے کے لئے کھڑے ہو جائیںگے مگر چونکہ وہ تبلیغ بھی پسند نہیں کرتے تھے اس لئے وہ بعض اور طریق آپ کو دکھ پہنچانے کے لئے اختیار کر لیتے تھے۔انہی میں سے ایک طریق یہ تھا کہ جب حضر ت صالح علیہ السلام تبلیغ کے لئے ارد گر د کے علاقوں میں نکل جاتے تو کسی جگہ کے لوگ کہتے کہ ہم ان کی اونٹنی کو پانی نہیںپلائیں گے، کسی جگہ کے لوگ کہتے کہ ہم کھانے کے لئے کچھ نہیںدیں گے۔ان کی غرض یہ تھی کہ جب انہیں اونٹنی کے لئے پانی اور چارہ وغیرہ نہ ملا تو یہ خود بخود