تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 56

ہے اور یہ دونوں قوتیں ایسی ہیں جن کا بر محل استعمال دنیا کی ترقی میں بہت ممد ہوتا ہے۔کئی مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں عفو سے کام لینا ضروری ہوتا ہے اور کئی مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں انتقام سے کام لینا ضروری ہوتا ہے۔نہ ہر جگہ عفو قابل تعریف ہوتا ہے نہ ہر جگہ انتقام قابل تعریف ہوتا ہے بہر حال یہ دونوں قوتیں اپنی اپنی جگہ نہایت ضروری ہیں لیکن اگر ہم عفو کی قوت کو کچل دیتے ہیں یا انتقام کی قوت کو لغوقرار دے کر اس سے کام نہیںلیتے تو ہم اپنی ناکامی کے سامان آپ مہیا کرتے ہیں۔کامیابی اسی وقت ہو سکتی ہے جب فطرت کو کچلا نہ جائے بلکہ اللہ تعالیٰ نے جس قدر قویٰ پیدا کئے ہیں ان کا جائز اور برمحل استعمال کیا جائے۔جو شخص اپنی فطرت کو کچل کر یہ خیال کرتا ہے کہ وہ بڑا با اخلاق ہے یا اپنی فطری استعدادوں کو مٹا کر یہ سمجھتا ہے کہ اس نے نیکی کا کوئی بہت بڑا مقام حاصل کر لیا ہے وہ انتہا درجہ کی غلطی کا ارتکاب کر تا ہے۔نیکی اس بات کا نام نہیں کہ فطرت کو کچل دیا جائے یا اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ طاقتوں کو ضائع کر دیا جائے بلکہ نیکی یہ ہے کہ فطرت کو بیدار کیا جائے اور ان قوتوں سے صحیح رنگ میں کام لیا جائے۔اللہ تعالیٰ نے اسی مضمون کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ جو شخص فطرت کو کچل دیتا اور اس کی قوتوں کو ضائع کر دیتا ہے وہ کبھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔دوسرے معنوں کے رو سے اس آیت کا یہ مطلب ہوگا کہ جس شخص نے اپنی روح کو فطرتی نور سے ہدایت لے کر ابھارا وہ با مراد ہوا یعنی نورِ الہام کو پا لیا مگر جس نے ایسا نہ کیا وہ نامراد رہا یعنی نہ خود اسے نور براہ راست مل سکے گا اور نہ دوسرے کے طفیل مل سکے گا کیونکہ فطرت تو ایک آئینہ تھی اور فطرت نے ہی شمس سے ری فلیکٹر کے طور پر نور لینا تھا۔جس نے اس فطرت کو زمین میںدبا دیا اسے روشنی کہاں سے آسکتی ہے وہ تو ظلمت میں ہی گرفتار رہے گا اور ظلمت میںہی اس جہان سے گذر جائے گا۔كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَا۪ۤۙ۰۰۱۲ ثمود نے اپنی حد سے بڑھی ہوئی سر کشی کی وجہ سے (زمانے کے نبی کو) جھٹلایا۔حلّ لُغات۔طَغْوٰی طَغْوٰی: طَغٰی سے ہے اور یہ واوی بھی ہے اور یائی بھی۔یعنی طَغٰی یَطْغُوْ طُغْوًا بھی استعمال ہوتا ہے اور طَغٰی یَطْغَی طَغًا وَ طُغْیَانًا بھی استعمال ہوتا ہے۔واوی اور یائی دونوں میںمعنوں کے لحاظ سے اختلاف ہے لیکن ایک معنے طَغٰی کے ایسے ہیں جو واوی اور یائی دونوں میں مشترک ہیںاور وہ معنے ہیں جَاوَزَالْقَدْرَوَالْـحَدَّ۔فلاں شخص حد سے نکل گیا۔لیکن طَغٰی یَطْغٰی جو یائی ہے اس کے بعض اور معنے بھی ہوتے ہیں