تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 55
اسے مارا جائے اور اس کی طاقتوں کو کچل کر رکھ دیا جائے۔اسی حکمت کے ماتحت قرآن کریم نے رہبانیت سے منع کیا ہے اور اسی حکمت کے ماتحت اس نے طیّب چیزوں کو اپنے نفس پر حرام قرار دے دینا جائز نہیں رکھا۔دوسرے مذاہب فطر ت کی بعض طاقتوں کو کچلتے ہیںاور کہتے ہیں کہ یہ نیکی ہے مگر اسلام اسے نیکی قرار نہیں دیتا۔اسلام یہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ نے تمہارے اندر جو قوتیں پیدا کی ہیں صرف ان کا تسویہ ہونا چاہیے اور ان کے استعمال میں اعتدال کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔وہ یہ نہیں کہتا کہ تم فطرت کو مار دو بلکہ وہ کہتا ہے تم فطرت سے اونچا مقام حاصل کرنے کی کوشش کرو کیونکہ فطرت کا علم ایک مجمل علم ہوتا ہے اور مجمل علم سے نجات نہیںہو سکتی محض کسی کا یہ کہہ دینا کہ فلاںشخص لاہور میں رہتا ہے ہمیںکچھ فائدہ نہیںپہنچا سکتا جب تک ہمیںیہ بھی معلوم نہ ہو کہ وہ لاہور کے فلاں محلہ اور فلاں گلی میں رہتا ہے یا فلاںموڑپرا س کا مکان ہے تاکہ ہمیں اس کی تلاش میں کوئی دقت نہ ہو اور آسانی سے ہم اس کے مکان پر پہنچ سکیں۔فطری استعدادوںکو ابھارنے کی تلقین پسقَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا کے یہ معنے ہوئے کہ اگر تم اپنی فطری طاقتوں کو ابھارتے ہو تو الٰہی مدد کو حاصل کر لیتے ہولیکن اگر تم ان طاقتوں کو دباتے ہو اور اس چیز کو ضائع کر دیتے ہو جو تمہیںہتھیار کے طور پر دی گئی تھی تو تم کبھی کامیابی حاصل نہیں کرسکتے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کوئی شخص سفر پر جانے لگے تو ہم اسے ہتھیار کے طور پر سونٹا بھی دے دیتے ہیں اور تلوار بھی دے دیتے ہیں۔سونٹا ہم اس لئے دیتے ہیںکہ بعض جگہ تلوار کام نہیںآسکتی اور تلوار ہم اس لئے دیتے ہیں کہ بعض جگہ سونٹاکام نہیں آسکتا۔اگر راستہ میںکوئی سانپ آجائے تو اس وقت تلوار کام نہیںدے سکتی بلکہ سونٹا کام دے گا لیکن اگر کسی دشمن سے مقابلہ ہو جائے تو اس وقت سونٹا اتنا کام نہیں دے سکتا جتنا کام تلوار دے سکتی ہے یا مثلاً کسی جگہ کثرت سے کانٹے ہوں اور رستہ صاف کرنے کی ضرورت ہو تو وہاں سونٹا توکام دے سکتا ہے مگر تلوار کام نہیںدے سکے گی۔گویا سونٹا اور تلواردونوں اس کے لئے ضروری ہوں گے کوئی ہتھیار کسی وقت کام آجائے گا اور کوئی ہتھیار کسی وقت کام آجائے گا۔اگر وہ ان دونوںمیںسے کسی ایک ہتھیار کو بھی لغو سمجھ کر پھینک دے گا تو یہ یقینی بات ہے کہ جب اسے ضرورت پیش آئے گی وہ سخت تکلیف اُٹھائے گا اور اسے اعتراف کرنا پڑے گا کہ میںنے اپنے ہتھیار کو پھینکنے میں سخت غلطی کی ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جس قدر قوتیں پیدا کی ہیں سب انسان کی ترقی اور اس کے فائدہ کے لئے پیدا کی ہیںاور یہ وہ ہتھیار ہیں جن سے مختلف مقامات پر فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اگر ہم ان میںسے کسی ایک ہتھیار کو بھی پھینک دیتے اور اپنی کسی قوت کو لغو قرار دے کر کچل دیتے ہیں تو ہم اپنی کامیابی کی منزل کو اپنے ہاتھ سے دور کرنے والے بن جاتے ہیں۔مثلاً خدا تعالیٰ نے انسان میں عفو کی بھی قوت پیدا کی ہے اور انتقام کی قوت بھی پیدا کی