تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 561 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 561

کے خرابیاں زیادہ پیدا ہوتی ہیں۔پہلے زمانہ میں بھی باپ دادا کی جائیداد پر قبضہ کر لینے کی وجہ سے بعض لوگ کام نہیں کرتے تھے مگر خرابیاںکم ہوتی تھیں کیونکہ قومی برتری کا احساس اُن کے دلوں میں نہیں ہوتا تھا وہ صرف اپنے ذاتی مفاد کومدنظر رکھا کرتے تھے مگر اب چونکہ ذاتی مفاد کی بجائے قومی مفاد کو بھی مد نظر رکھا جاتا ہے اور دنیا کا ایک بہت بڑا حصہ اپنے تمام اعمال اس لئے بجا لاتا ہے کہ اُس کی قوم کو دوسروں پر تفوق حاصل ہو، اُس کی قوم کو دوسروں پر غیر معمولی اقتدار اور غلبہ میسر ہو، اُس کی قوم کو بہت بڑی طاقت حاصل ہو۔اس لئے کام کرنے کے باوجود اس زمانہ میں خرابیاں زیادہ پیدا ہو رہی ہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم تدبیریں کرو اور ضرور کرو کیونکہ ہم نے تم کو پیدا ہی اسی لئے کیا ہے کہ تم کام کرو مگر دیکھو ہماری نصیحت یہ ہے کہ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ اپنی ساری تدبیریں خدا تعالیٰ کے لئے وقف کر دو۔ذاتی آرام یا قومی مفاد تمہارے مدنظر نہ ہو بلکہ تمہاری تمام جدوجہد محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی کے حصول کے لئے ہو۔غور کرو یہ کیسا سنہری اصل ہے اور کس طرح اس پر عمل کرنے کے نتیجہ میں دنیا میں امن قائم ہو جاتا ہے اس ذریعہ سے ایک طرف اللہ تعالیٰ نے نکما پن دور فرما دیا اور بنی نوع انسان سے کہہ دیاکہ دیکھو ہم یہ پسند نہیں کرتے کہ تم بےکار رہو اور دنیا میں آ کر کوئی کام نہ کرو اور دوسری طرف کہہ دیا کہ ہم یہ بھی پسند نہیں کرتے کہ تم جھوٹی رقابتیں پیدا کرنی شروع کر دو۔تم کام کرو اور خوب کرو مگر جھوٹی رقابتیں پیدا نہ کرو۔دوسرے ملکوں یاقوموں کو تباہ کرنے کی کوشش نہ کرو بلکہ ہر کام اللہ تعالیٰ کی خاطر کرو۔یہ امر ظاہر ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے ہر کام کرے گا ذاتی یا قومی برتری کا احساس اس کے دل میں نہیں ہو گا وہ دوسروں کے حقوق کو کچلنے کے لئے بھی کوئی قدم نہیں اٹھائے گا یہی وجہ ہے کہ اسلامی حکومت کے زمانہ میں ( یعنی جب جب اور جہاں اسلامی اصول پر حکومت کی گئی ) کبھی غیر قوموں کو کچلنے کی کوشش نہیں کی گئی۔سات آٹھ سو سال تک مسلمانوں کو حکومت کرنے کا موقع ملا ہے اور یہ ایک بہت بڑا عرصہ ہے اس قدر لمبے عہد حکومت کے باوجود کسی مسلمان حکومت نے ہمسایہ ممالک کو تباہ کرنےکی کوشش نہیں کی حالانکہ ان کے مقابلہ میں مسلمانوں کے پاس بہت کچھ طاقت تھی اور وہ اگر چاہتے تو آسانی سے ان کی اقتصادی حالتوں کو تباہ کر سکتے تھے۔مگر باوجود طاقتور ہونے کے، باوجود بادشاہ ہونے کے، باوجود آٹھ سو سال تک برسر اقتدار رہنے کے، باوجود ہمسایہ ممالک کی کمزوری کے کبھی ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ اُن کو کچلنے کے لئے مسلمانوں نے کوئی اقدام کیا ہو ایبے سینیا اس کی واضح مثال ہے تیرہ سو سال وہ مسلمانوں کی ہمسائیگی میں رہا مگر اُس کی آزادی میں کوئی فرق نہ آیا۔اس کے مقابلہ میں عیسائیوں میں صرف ایک صدی افریقہ میں غلبہ ہوا تو انہوں نے ایبے سینیا کو کچل دیا حالانکہ ایبے سینیا والے اُن کے ہم مذہب تھے اور اس لحاظ سے وہ اس بات کا زیادہ حق رکھتے