تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 562 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 562

تھے کہ اُن کے ملک پر ڈاکہ نہ ڈالا جائے۔مگر عیسائیوں نے کسی بات کی پروا نہ کی، نہ انصاف کو مدنظر رکھا، نہ دیانت اور رواداری کی پروا کی اور اپنے غلبہ کے گھمنڈ میں کمزور ممالک پرحملہ کر کے اُن کو اپنا ماتحت بنا لیا۔یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ مسلمان قرآنی احکام کے مطابق اپنی تمام کوششیں محض اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھتے ہوئے عمل میں لاتے تھے۔چونکہ ایبے سینیا، یوگنڈا اور ایسٹ افریقہ وغیرہ نے مسلمانوں کو چھیڑا نہیں اس لئے باوجود زبردست مسلمان حکومتوں کے پہلو میں بیٹھے ہونے کے کسی نے اُن کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھا اور یہ حالت برابر چلتی چلی گئی یہاں تک کہ انتہائی مُردہ اور گری ہوئی حالت میں بھی اُن کے اندر یہ خوبی قائم رہی اور انہوں نے غیر اقوام کو کچلنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔لیکن یوروپین قوموں نے جہاں بھی سر نکالا انہوںنے غیر ممالک کو کچل ڈالا۔میںہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ یوروپین قوموں کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے بچوں کو کھیلتے ہوئے جب کوئی چیز مل جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں ’’لبّھی چیز خدا دی نہ دھیلے دی نہ پا دی ‘‘ یہ بھی غیر ملکوں پر قبضہ کرتے چلتے جاتے ہیں اور پھر کہتے ہیں یہ تو ایک گری پڑی چیزتھی جو ہمیں مل گئی۔پھر اس کے ساتھ ہی وہ اخلاق کے بھی دعویدار بنتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے یہ قبضہ امن قائم کرنے اورلوگوں کو تہذیب و شائستگی کے اصول سکھانے کے لئے کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ دعویٰ بالکل غلط ہے اگر واقعہ میں تمہارے اندر اخلاق پائے جاتے تھے اور تمہارے مدنظر ذاتی یا قومی مفاد نہیں تھا تو تمہارا فرض یہ تھا کہ تم بجائے غیرممالک پر قبضہ کرنے اور اُس کی دولت سے فائدہ اُٹھانے کے ان ممالک میںجاتے، لوگوں کی تربیت کرتے، ان کو علم سکھاتے اور پھر واپس آ جاتے۔گویا جو کچھ کرتے اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے کرتے نفسانیت کا اُس میں کوئی شائبہ نہ ہوتا۔مگر تم نے تو جو کچھ کیا اپنے نفس کے لئے کیا اور یہ وہ چیز ہے جو دنیا میں امن قائم نہیں کرتی بلکہ بدامنی اور ظلم کے دَور دَورہ کا موجب بن جاتی ہے اگر انگریز افریقہ میں جاتے اور بجائے اُس پر قبضہ کرنے کے لوگوں سے کہتے کہ ہم تمہاری ترقی کے لئے آئے ہیں۔پھر ان کو تعلیم دلاتے، اُن کو کاشت کے اصول سکھاتے۔مدرسے اور کارخانے قائم کرتے ، مال و دولت کو ترقی دینے کے ذرائع بتاتے تہذیب اور شائستگی کے اُصول سکھاتے اور جب وہ یہ سب کچھ سیکھ جاتے تو کہتے لو اب ہم واپس جاتے ہیں۔یہ ملک تمہارا ہے ہم تو محض تمہاری خدمت کرنے کے لئے آئے تھے تو یقیناً وہ اپنے دعوے میں سچے سمجھے جا سکتے تھے اور کہا جا سکتا تھا کہ اُن کی کوششیں اپنے لئے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کے لئے تھیں۔مگر یہ کیا طریق ہے کہ افریقن لوگوںکو الگ بٹھا دیا۔اُن کی زمینوں اورجائیدادوں پر قبضہ کر لیا اور پھر یہ راگ الاپنا شروع کر دیا کہ ہم نے تو یہ قبضہ افریقن لوگوں کی ترقی اور اُن کے فائدہ کے لئے کیا ہے اور یہی ہمدردی کاجذبہ اِس کا محرک ہوا ہے۔