تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 560
دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نکما نہیں بیٹھا بلکہ وہ اپنی تمام صفات سے کام لے رہا ہے، کہیں بنی نوع انسان کو رزق دے رہا ہے کہیں ان کو زندہ کر رہا ہے کہیں اُن کو مار رہا ہے کہیں اُن کی مغفرت کے سامان کر رہا ہے۔کہیں اُن پر رحمت نازل کر رہا ہے، کہیں اُن پر عذاب بھیج رہا ہے،کہیں اُن کو ترقی دے رہا ہے۔کہیں تنزّل کے سامان کر رہاہے۔غرض دن رات وہ کام میں لگا ہوا ہے اور یہی وہ انسانوں سے چاہتا ہے کہ جس طرح میں کام میں لگا ہوا ہوں اسی طرح تم بھی کام میں لگ جائو اور کبھی غفلت اور سستی کو اپنے قریب بھی نہ آنے دو۔مگر افسوس کہ لوگوں کی حالت یہ ہے کہ ان کو ذرا بھی سہولت کے سامان میّسر آ جائیں تو وہ سست ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب ہمیں کام کرنے کی ضرورت نہیں۔ہمارے ملک میں تو عام محاورہ ہے کہ جب کسی آسودہ حال سے پوچھا جائے کہ سُنائو کیا حال ہے تو وہ کہتا ہے اللہ کا بڑا فضل ہے کھانے پینے کو بہت کچھ ہے اب کام کی ضرورت نہیں۔حالانکہ کام تو سامانوں کے مطابق ہوتا ہے۔جس کے پاس کم سامان ہوں وہ کم کام کرتا ہے اور جس کے پاس زیادہ سامان ہوں وہ زیادہ کام کرتا ہے۔پس اگر اُنہیں زیادہ سامان میسر آگئے تھے تو اُن کا فرض تھا کہ وہ کام بھی دوسروں سے زیادہ کرتے نہ یہ کہ سامانوں کے میسر آجانے کی وجہ سے اپنی کمر ہمت کو بالکل تو ڑ کر بیٹھ جاتے اور کہتے کہ اب ہمیں کام کی ضرورت نہیں۔کھانے پینے کا سامان خدا تعالیٰ نے بہت کچھ دے دیا ہے۔اب ہمارا کام اتنا ہی ہے۔کہ کھائیں پئیں عیش و آرام میں اپنا وقت گزاریں اور سو جائیں۔یہ ایک لعنت ہے جو ہندوستانیوں کے سروں پر مسلّط ہے اور جس نے اُن کوترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے کر دیا ہے۔وہ جدوجہد اور عمل صرف اس بات کا نام سمجھتے ہیں کہ اپنی ذات کو فائدہ پہنچ جائے یا اپنے خاندان کو فائدہ پہنچ جائے بنی نوع انسان کو اپنی جدوجہد کے ثمرات میں شریک کرنے کے لیے وہ تیار نہیں ہوتے۔اس کے مقابل میں یورپ کے لوگوں میں جہاں اور کئی قسم کے نقائص ہیں وہاں اِس نقص کو انہوں نے قومی طور پر بالکل دور کر دیا ہے۔وہاں امیر اور غریب سب کام کرتے ہیں اور باوجود بڑے بڑے اُمراء کی موجودگی کے اُن میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نظر نہیں آتا جو کام نہ کر رہا ہو اِلاّ ماشاء اللہ ہر قوم میں کچھ نہ کچھ گندے اور خراب افراد بھی ہوتے ہیں اُن کومستثنیٰ کرتے ہوئے اکثریت ایسے ہی لوگوں کی نظر آتی ہے جو اربوں ارب روپیہ کے مالک ہیں مگر خود بھی کام کرتے ہیں اُن کی بیویاں بھی کام کرتی ہیں اُن کے بچے بھی کام کرتے ہیں اسی طرح اُن کے خاندان کے دوسرے افراد بھی کام کرتے ہیں اور وہ کبھی کام کرنا اپنے لئے ننگ اور عار کا موجب نہیں سمجھتے مگر اس کے باوجود وہ یا تو اپنے نفس کے لئے سب کچھ کرتے ہیں یا اپنے ملک کی ترقی اور اُس کی خوشحالی کے لئے کام کرتے ہیں یا قومی برتری کا احساس اُن کے مدّ نظر ہوتا ہے یا نفسانی خواہشات اُن کے پیش نظر ہوتی ہیں اسی لئے باوجود کام کرنے