تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 559
نہیں ہوتا کہ وہ شہرت کے بھوکے ہوتے ہیں یا عزت کے متلاشی ہوتے ہیں یا مال و دولت کے شائق ہوتے ہیں بلکہ وہ اِس لئے اپنی عمریں ان کاموں میں صرف کر دیتے ہیں کہ اُن کی قوم سر بلند ہو اور اُسے دنیا میں عزت کا مقام حاصل ہو۔اللہ تعالیٰ اِس آیت میں یہ فرماتا ہے کہ جب بھی دنیا میں ایسا طریق عمل جاری ہو گا غلط قسم کی رقابت پیدا ہو گی اور تباہی اور بربادی اس کے نتیجہ میں آئے گی پس انسان کو چاہیے کہ اپنی سب جدوجہد اللہ تعالیٰ کے لئے کرد ے۔اگر اُسے حساب کا شو ق ہے اور وہ اس علم میں ترقی کرنا چاہتا ہے تو بے شک کرے اور خوب کرے۔اگر اُسے سائنس کا شوق ہے اور وہ نئی نئی ایجادات کرنا چاہتا ہے تو بے شک سائنس کی طرف توجہ کرے اور دنیا میں نئی سے نئی ایجادیں کرے۔اگر اُسے تجارت کا شوق ہے تو بے شک وہ تجارت کرے اور خوب مال ودولت کمائے۔اگر اُسے زراعت کا شوق ہے اور وہ اس علم پر غور کرتے ہوئے نئے نئے امور دریافت کرنا چاہتا ہے تو بے شک ایسا کرے کیونکہ خود خدا نے یہ فطرت پیدا کی ہے اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ انسان کام کرے بے کار نہ بیٹھے مگر چاہیے کہ اُس کی سب تدبیریں اللہ تعالیٰ کے لئے ہوں یہ ظاہر ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے لئے جدوجہد کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کے بعض بندوں کو اپنی جدوجہد کے ثمرات سے محروم نہیں کرے گا۔جب وہ خدا کے لئے ایسا کرے گا تو اُس کی یہ غرض نہیں ہوگی کہ انگلستان کو کچل دے، نہ انگلستان کی یہ غرض ہو گی کہ فرانس کو کچل دے، نہ امریکہ کی یہ غرض ہو گی کہ رُوس کو کچل دے۔جب ہر شخص اللہ تعالیٰ کے لئے کوشش کرے گا تو اس کی کوششیں تمام بنی نوع انسان کے لئے مفید ہوں گی اور غلط قسم کی رقابت اور عداوت دنیا میں پیدا نہیں ہو گی۔تمام تباہی اسی وجہ سے واقعہ ہوتی ہے کہ انسان اپنے ذاتی یا قومی مفاد کے لئے دوسروںکے حقوق کو غصب کرنا شروع کر دیتا ہے اور اس امر کو کلی طور پر نظر انداز کر دیتا ہے کہ اسے اپنی جدوجہد کے ثمرات میں تمام بنی نوع انسان کو شریک کرنا چاہیے۔یہ تو علمی زمانہ ہے مگر پھر بھی دیکھا جاتا ہے کہ باپ داداکی دولت سے ذرا بھی حصہ مل جائے تو لوگ غافل ہوجاتے ہیں ہر قسم کے کاموں کو چھوڑ کر اپنے گھروں میں بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں اب ہمیں کام کرنے کی کیا ضرورت ہے باپ دادا سے ہمیں بہت بڑی جائیداد مل گئی ہے اور اب ہمارا کام یہی ہے کہ ہم کھائیں پئیں اور سو رہیں یہ قطعاً خیال نہیں کیا جاتا کہ انسان کی پیدائش اِس لئے نہیں ہوئی کہ وہ کھائے پئے اور سو رہے بلکہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا ہے جیسا کہ اِنِّيْ جَاعِلٌ فِي الْاَرْضِ خَلِيْفَةً( البقرۃ:۳۱) سے ظاہر ہے اور جب انسان اِس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہے تو اُسے غور کرنا چاہیے کہ اُس کے لئے نکما پن کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ نعوذ باللہ نکما بیٹھا ہوا ہوتا تو یہ کہا جاسکتا تھا کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کوئی کام نہیں کرتا اس لئے اگر انسان بھی کوئی کام نہ کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔مگر ہم