تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 527

لوگ اہل کتاب کے اثر کے ماتحت یہ امید یں رکھتے تھے کہ ایک رسول آنے والا ہے۔حالانکہ یہ عبارت ایسی ہے کہ اس سے ’’کچھ‘‘ کا استنباط ہو ہی نہیں سکتا۔تمام مشرکوں کو اہلِ کتاب کے ساتھ شریک کیاگیا ہے اس لئے یہ کہا ہی نہیں جا سکتا کہ یہاں بعض مشرکوں کا ذکر ہے اور بعض کا نہیں۔آیت لَمْ يَكُن الخ کا صحیح ترجمہ قرآن کریم تو یہ کہتا ہے کہ سب اہل کتاب اور مشرک رُکنے والے نہیں تھے۔پس اگر اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ اس اعلان سے نہیں رکے کہ ایک موعود آنے والا ہے تو اس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ ہر مشرک یہ امید رکھتا تھا کہ ایک رسول آئے گا حالانکہ یہ امر باالبداہت باطل ہے۔مشرکوں میں تو ایسے لوگ بھی تھے جو نزولِ الہام کے بھی قائل نہیں تھے کجا یہ کہ وہ کسی مامور کی بعثت کا انتظار کر رہے ہوتے۔پھر اگر یہی معنے کئے جائیں کہ وہ ایک مامور کی اُمید سے نہیں رُکے جب تک کہ رسول اُن کے پاس نہیں آ گیا تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس صورت میں لَمْ يَكُنْ مُنْفَكِّيْنَ کے کیا معنے ہوئے؟ اس فقرہ کے تو یہ معنے ہیں کہ وہ رسول کے آنے کے بغیر اپنے مقام سے اِدھر اُدھر ہل نہیں سکتے تھے اور رسول کے آنے پر یہ کہنا کہ ہم کسی رسول کے منتظر نہیں تھے یا ہمیں کسی مامور کی امید نہیں تھی۔اس میں ہٹ نہ سکنے کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔رسول کی آمد کا انکار تو جو چاہے اپنے ارادہ سے کر سکتا ہے۔علاوہ ازیں یہ امر بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اس آیت کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ امر اوّل کا بدلنا منشاء الٰہی کے ماتحت ہے اور اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ ایسا ہو جائے کیونکہ لَمْ یَکُنْ فَاعِلًا حَتّٰی کے معنے عربی زبان میں قائل کی اس خواہش کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ بہتر ہے کہ ایسا تغیر ہو جائے۔لیکن جو معنے اُن مفسروں نے کئے ہیں اُن سے خدا تعالیٰ کی خواہش نہیں بلکہ عدم خواہش ظاہر ہوتی ہے کیونکہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ خدا تعالیٰ چاہتا تھا کہ یہ لوگ رسول کی آمد کا انتظار چھوڑ دیں کیونکہ ایسا کرنا گمراہی ہے اور خدا تعالیٰ کسی کے گمراہ ہو جانے کو پسند نہیں کرتا۔اُردو زبان میں بھی اس قسم کی عبارات کے معنوں پرغور کرو تو حقیقت کھل جائے گی۔اگر کوئی یہ کہے کہ جب تک اُستاد نہ رکھا اس لڑکے نے پڑھا ہی نہیں۔اس کے بے شک یہ معنے ہیں کہ اُستاد رکھنے سے اُس نے پڑھا لیکن ساتھ ہی یہ امر بھی ظاہر ہے کہ کہنے والے کی خواہش بھی اس میں مخفی ہے کہ لڑکے کے پڑھ جانے کو وہ پسند کرتا تھا یہ نہیں کہ وہ پسند نہیں کرتا تھا اسی امر کو مد نظر رکھتے ہوئے ان مفسرین کے معنوں کو دیکھو تو اس آیت کا ترجمہ اُن کے خیال کے مطابق یہ ہو گا کہ رسول آیا تب کہیں جا کر ان لوگوں نے رسول کی آمد کا انتظار چھوڑا اور ظاہر ہے کہ اس عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ کہنے والا چاہتا تھا کہ یہ رسول کی آمد کا انتظار چھوڑ دیں اور ایسا خیال اللہ تعالیٰ کی نسبت سخت گستاخانہ خیال ہے۔