تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 528 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 528

علامہ واحدی کہتے ہیں کہ اس کے معنے یہ ہیں کہ جب تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر ضلالت وکفر کو ظاہر نہیں کیا اہل کتاب اور مشرک اپنے کفر سے بعض نہ آئے(فتح البیان زیر آیت لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ) اور چونکہ اس مقام پر ان کے دل میں بھی یہ شبہ پید اہوا ہے کہ یہاں تو سب اہل کتاب اور مشرکین کا ذکر کیا گیا ہے اس لئے وہ کہتے ہیں کہ یہ آیت ایمان لانے والے اہل کتاب اور مشرکوں کے بارہ میں ہے یعنی اہل کتاب میں سے کافر اور مشرکوں میں سے کافر نہ رکے یعنی ایمان لے آئے حالانکہ یہاں صاف طور پر كَفَرُوْا کا لفظ آتا ہے اگر ان کا خیال درست ہو تو یوں کہنا چاہیے تھا اہل کتاب اور مشرکوں میں سے کچھ لوگ ایمان لے آئے الَّذِیْنَ کَفَرُوْا کہنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی پھر لکھتے ہیں وَھٰذِہِ الْاٰیَۃُ مِنْ اَصْـعَبِ مَا فِی الْقُرْاٰنِ نَظْمًا وَّ تَفْسِیْـرًا وَّقَدْ تَـخَبَّطَ فِیْہِ الْکِبَارُ مِنَ الْعُلَمَاءِ وَ سَلَکُوْا فِیْ تَفْسِیْـرِھَا طُرُقًا لَا تُفْضِیْ بِـھِمْ اِلَی الصَّوَابِ (فتح البیان زیر آیت لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ) یعنی یہ آیت عبارت اور تفسیر کے لحاظ سے قرآن کریم کی مشکل ترین آیتوں میں سے ہے اور بڑے بڑے علماء اس میں ٹھوکریں کھاتے رہے ہیں اور انہوں نے اس کے معنے کرتے ہوئے ایسےطریق اختیار کئے ہیں جو انہیں صحیح نتیجہ پر پہنچانے سے قاصر رہے۔جہاں یہ بات درست ہے کہ بعض علماء نے اس کے معنوں میں ادبی غلطیاں کی ہیں یعنی جو معنے نہیں ہو سکتے تھے وہ کر دیئے ہیں مثلاً یہ کہ یہود نے انتظارِ نبی نہ چھوڑا جب تک نبی نہ آگیا وہاں علامہ واحدی کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے صحیح مطلب سمجھا ہے یہ بھی غلط ہے کیونکہ ان کے معنے بھی درست نہیں لَمْ يَكُنِ مُنْفَكِّيْنَ کے معنے ’’ وہ نہیں رُکے‘‘ کسی صورت میں بھی درست نہیں اس کے معنے ہمیشہ ’’ وہ رُکنے والے نہ تھے‘‘ کے ہوتے ہیں بہرحال اس آیت کے معنے سمجھنے میں دقتیں ضرور پیش آئی ہیں مگر یہ دقتیں خود پیدا کردہ ہیں کیونکہ مُنْفَكِّيْنَ کے حقیقی معنوں کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔اگر سیاق عبارت سے اس کا مفہوم نکال لیا جاتا تو بات آسان ہو جاتی کَفَرُوْا کا لفظ پہلے گزر چکا تھا۔اس لئے مُنْفَكِّيْنَ کے معنے یہی ہو سکتے تھے کہ مُنْفَكِّيْنَ عَنْ کُفْرِھِمْ۔اگر عَنْ کُفْرِھِمْ کو محذوف نکال لیا جاتا تو معنوں کی دقتیں پیش نہ آتیں اور مضمون بالکل ظاہر ہو جاتا۔رَسُوْلٌ مِّنَ اللّٰهِ يَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَهَّرَةًۙ۰۰۳ یعنی اللہ ( کی طرف )سے آنے والا ایک رسول جو (اُنہیں ایسے) پاکیزہ صحیفے پڑھ کر سناتا۔حلّ لُغات۔طَھَّرَہٗ طَھَّرَہٗ کے معنے ہوتے ہیں جَعَلَہٗ طَا ھِرًا۔اُس کو پاک کر دیا (اقرب) اس لحاظ