تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 526
سو ۱۰۰ فی صدی مسلمان ہوگئے اور باقی ممالک پر بھی اسلام کی توحید کا ایسا اثر ہوا کہ انہوں نے شرک کو خود بخود ترک کر دیا۔چنانچہ اب حقیقی معنوں میں مشرک صرف ہندوستان یا افریقہ کے قبائل ہی رہ گئے ہیں باقی سب مشرکین میں سے نکل کر اہل کتاب میں شامل ہوچکے ہیں۔اس سورۃ کی اوّلین مخاطب عرب کی قوم ہو سکتی تھی مگر وہ جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں وہ ساری کی ساری مسلمان ہوگئی تھی۔ایسا تغیّر اس سے پہلے دنیا کی کسی الہامی کتاب نے پیدا نہیں کیا۔باقی رہے وہ لوگ جو ایمان لانے سے اِس وقت تک محروم ہیں اُن کے متعلق اِسی سلسلہ میں ایک اور خبر دی گئی ہے مگر اس سورۃ میں نہیں بلکہ اگلی سورۃ میں۔آیت لَمْ يَكُن کا ترجمہ سیل اور ویری کے نزدیک اور اس کی تغلیط اس جگہ اس امر کا ذکر کرنا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّيْنَ حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ میں ’’لَمْ يَكُنْ‘‘ کا ترجمہ سیل اور ویری دونوں نے غلط کیا ہے۔اُنہوں نے ترجمہ یہ کیا ہے کہ ’’وہ ہٹے نہیں‘‘ (A comprehensive commentary on the Quran by Wherry V:4 page 266- The Koran by Sale v:1 p۔494) اور معنے یہ کئے ہیں کہ یہود اور نصاریٰ جو ایک آنے والے رسول کی امید لگائے بیٹھے تھے وہ اس امید پر قائم رہے جب تک کہ رسول نہ آ گیا یعنی جب وہ رسول آ گیا جس کی وہ امید کیا کرتے تھے تو انہوں نے کہہ دیا کہ ہمیں تو کسی رسول کی امید نہیں تھی حالانکہ لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مُنْفَكِّيْنَ حَتّٰى کے معنے سوائے اس کے ہو ہی نہیں سکتے کہ پہلا مضمون دوسرے سے معلّق ہے جب تک دوسری حالت نہ ظاہر ہو جائے پہلی حالت بدل ہی نہ سکتی تھی۔پس رسول کے آنے تک رُکے نہ تھے اِس آیت کے معنے ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ اِن معنوں میں تعلیق مشروط نہیں پائی جاتی بلکہ صرف ایک واقعہ کا اظہار ہے جو اِس قسم کی عبارت کے منافی ہے۔آیت لَمْ يَكُن الخ کا ترجمہ کرنے میں بعض مفسرین کو ٹھوکر تعجب ہے کہ پرانے مفسرین میں سے بھی بعض نے یہی معنے کئے ہیں حالانکہ وہ عربی زبان کے بڑے ماہر تھے اُن کا اس عربی عبار ت میں سے یہ معنے نکال لینا ایک حیرت کی بات ہے مگر پھر خود ہی اُن کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہوا ہے کہ اگر اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ آنے والے نبی کے اظہار سے یعنی اس عقیدہ کے اظہار سے کہ ایک موعود رسول آنے والا ہے وہ نہیں رکے جب تک کہ نبی نہیں آ گیا تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں تو اہل کتاب کے ساتھ مشرکین کا بھی ذکر آتا ہے کیا مشرک بھی یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ ایک رسول دنیا میں آنے والا ہے۔پھر اس کا خود ہی انہوں نے یہ جواب دیا ہے کہ کچھ مشرک