تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 476

عہد ختم کیا جائے اس قوم کی قیامت قریب تھی اور اس کی ہلاکت کے راستے کھلنے والے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایک اور پیشگوئی حضرت دائود سے کروادی جس میں یہ بتایا گیا کہ عہد ابراہیمی جو حضرت اسحٰق کی نسل سے پورا ہونا تھا اب ختم ہورہا ہے اب اسے نیا رنگ دے دیا جائے گا اور اب کنعان اسحٰق کی اولاد کی بجائے سچے دین کے متبعوں کے قبضہ میں چلا جائے گا۔سو مسلمانوں کا قبضہ فلسطین پر حضرت ابراہیمؑ کی پیشگوئی کے ماتحت نہیں بلکہ حضرت دائودؑ کی پیشگوئی کے مطابق ہے(زبور باب ۳۷ آیت ۲۹)۔حضرت ابراہیمؑ کے عہد کے مطابق تو ان کا قبضہ مکہ اور حجاز پر ہے اور دائود کی پیشگوئی کے مطابق ان کا قبضہ کنعان یعنی فلسطین پر ہے اور یہی وجہ ہے کہ کنعان پر مسلمانوں کے قبضہ کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم نے حضرت ابراہیمؑ کی پیشگوئی کا حوالہ نہیں دیا بلکہ حضرت دائودؑ کی پیشگوئی کا حوالہ دیا ہے۔حالانکہ اگر حضرت دائود کی پیشگوئی حضرت ابراہیمؑ ہی کی پیشگوئی کی تکرار ہوتی تو جو مقدم پیشگوئی تھی اس کا ذکر کرنا چاہیے تھا اس سلسلہ میں یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن کریم اور احادیث کی بعض دوسری پیشگوئیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک دفعہ عارضی طور پر یہود کا غلبہ اس زمین میں پھر مقدر ہے جس کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔کیا لیلۃ القدر کوئی معین رات ہے؟ اب میں اس سوال کو لیتا ہوں کہ کیا لیلۃالقدر کوئی معین رات ہے اور کیا یہ وہی رات ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا۔یہ امر تو ثابت شدہ ہے کہ قرآن کریم رمضان میں نازل ہونا شروع ہوا لیکن یہ امر واقعی طور پر ثابت نہیں کہ رمضان کی کس رات میں قرآن کریم کے نزول کی ابتداء ہوئی۔بعض ستر۱۷ہ رمضان کی بتاتے ہیں اور بعض انیس۱۹ رمضان کی اور بعض چوبیسو۲۴یں رمضان کی قرار دیتے ہیں(تفسیر ابن کثیر زیر سورۃ القدر)۔غرض اس بارہ میں اس کے سوا کہ آخری پند رہ تاریخوںمیں سے کسی تاریخ قرآن کریم اترا تھا اور کوئی یقینی بات ثابت نہیں۔لیکن ہر رمضان میں جو لیلۃالقدر آتی ہے اس کے بارہ میں احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ آخری عشرہ میں سے کسی رات میں آتی ہے(بخاری کتاب فضل لیلۃ القدر باب تـحرِّی لَیْلَۃ القدر فی الوتر من العشـر الاواخر) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ لیلۃالقدر سے مراد معین طور پر وہ رات نہیں جس میں قرآن کریم اترا بلکہ صرف ایک ایسی رات مراد ہے جو نزول قرآن کی یاد میں خدا تعالیٰ نے بطور علامت مقرر فرمائی ہے۔اب رہا یہ سوال کہ جو رات بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے نزول کی علامت کے طور پر مقدر کی ہے کیا وہ ایک معین رات ہے؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ نہیں وہ بھی کوئی معین رات نہیں بلکہ رمضان کے آخری عشرہ کی راتوں میں چکر لگاتی رہتی ہے۔اس رات کی نسبت مختلف احادیث سے جو معلومات حاصل ہوتی ہیں وہ ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔