تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 475

کی ذمہ واری اپنے اوپر اٹھائے گی۔اس کے مقابل پر اللہ تعالیٰ نے جو اپنے لئے عہد کا نشان مقرر کیا وہ بھی بنو اسحٰق کے مقابل کتنا شاندار ہے۔وہاں تو صرف یہ وعدہ تھا کہ کنعان پر انہیں حکومت ملے گی مگر یہاں یہ عہد بھی ہے کہ (۱)بنو اسمٰعیل کے مرکز کو ہمیشہ دشمن کے حملوں سے محفوظ رکھا جائے گا(۲)بنو اسمٰعیل کو بھی مکہ کے گردوپیش پر حکومت ملے گی مگر وہ صرف سیا سی نہ ہو گی بلکہ روحانی بھی ہو گی۔گویا بنو اسحٰق سے صرف ایک وعدہ تھا کہ کنعان پر انہیں حکومت ملے گی مگر بنو اسمٰعیل سے تین وعدے تھے یعنی مکہ کی حفاظت کا،عرب پر حکومت کا، عرب پر روحانی اقتدار ہمیشہ قائم رہنے کا۔چونکہ یہ عہد بنو اسمٰعیل سے مخصوص تھا اس لئے لازماً انہوں نے ہی اسے محفوظ رکھا۔جس طرح بنو اسحٰق نے اپنے عہد کو بائبل میں محفوظ رکھا۔یہ وہ لطیف نقطہ ہے جو خدا تعالیٰ نے خاص طور پر مجھے سمجھایا ہے اور جس سے عہد ابراہیم کی نسبت وہ سب کشمکش جو بنو اسحٰق اور بنو اسمٰعیل میں چلی آتی ہے دور ہو جاتی ہے۔یہ درست ہے کہ کنعان کا ملک خدا تعالیٰ نے عہد ابراہیم کے مطابق بنو اسحٰق کو دیا تھا مگر یہ بھی درست ہے کہ ویسا ہی بلکہ اس سے شان میں بہت بڑھ کر عہد بنو اسمٰعیل سے کیا گیا تھا اور وہ بنو اسحٰق کے عہد سے بھی زیادہ شاندار طور پر پورا ہوا۔جیسا کہ آگے سورۂ قریش اور سورۂ فیل میں ان امور کی تفصیل آئے گی۔مسلمانوں کو کنعان کا ملک ملنے کی پیشگوئی داؤد کے کلام میں اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ابراہیمی عہد میں بنواسحٰق سے ہی کنعان کا وعدہ تھا تو پھر بنو اسمٰعیل کو یہ ملک کیوں ملااور سورہ ٔانبیاء میں یہ پیشگوئی کیوں کی گئی ہے کہ یہ ملک مسلمانوں کو ملے گا جیسا کہ فرماتا ہے وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ اِنَّ فِيْ هٰذَا لَبَلٰغًا لِّقَوْمٍ عٰبِدِيْنَ (الانبیاء:۱۰۶،۱۰۷) یعنی ہم زبور میں ذکر کے بعد لکھ چکے ہیں کہ کنعان کا ملک میرے نیک بندوں کو ملے گا۔یہ بات ہم عبادت گذار قوم (یعنی مسلمانوں) کو توجہ دلانے کے لئے بیان کر رہے ہیں اور ان کا حق انہیں پہنچاتے ہیں یعنی جب جائز موقعہ آئے تم فلسطین پر حملہ کر دینا اللہ تعالیٰ تم کو فتح دے گا کیونکہ دائود ؑ نے یہ خبر دے رکھی ہے۔چنانچہ مسلمانوں نے اس اشارہ کو سمجھ لیا اور باوجود اس کے کہ قیصر کی حکومت دنیا کی سب سے طاقتور حکومت تھی چند مٹھی بھر آدمیوں کے ساتھ مسلمان جرنیل اس سے جا بھڑے اور اسے بری طرح شکست دے کر ملک پر قبضہ کر لیا۔اس سوال کا جواب یہ ہے کہ کنعان کے متعلق دو الگ الگ وعدے تھے ایک ابراہیم سے کہ یہ ملک بنو اسحٰق کو ملے گا اور ایک دائود ؑسے کہ یہ اس قوم کو ملے گا جو راستباز اور خدا تعالیٰ کی عبادت گذار ہو گی۔حضرت دائود، حضرت ابراہیمؑ کے ہزار بارہ سو سال بعد مبعوث ہوئے تھے ان کے زمانہ میں وہ وقت قریب آرہا تھا کہ بنو اسحٰق کا