تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 477
لیلۃ القدر کے متعلق مختلف احادیث اور اقوال ابودائود طیالسی کی روایت ہے کہ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلّمَ قَالَ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ اِنَّـھَا لَیْلَۃٌ سَابِعَۃٌ اَوْتَاسِعَۃٌ وَّعِشْـرُوْنَ (مسند ابوداؤد طیالسی مسند ابو میمونۃ عن ابی ھریرۃ) یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیلۃ القدر کے متعلق فرمایا وہ ستائیسویں یا انتیسویں رات کو ہوتی ہے۔مسند احمد بن حنبل میں عبادۃ الصامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لَـیْـلَـۃُ الْـقَـدْرِ فِیْ الْـعَـشْـرِ الْـبَـوَاقِیْ مَنْ قَـامَـہُـنَّ ابْـتِـغَاءَ حِسْبَتِـھِنَّ فَاِنَّ اللہَ یَغْفِرُلَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْـبِـہٖ وَمَـا تَأَخَّرَ وَہِیَ لَیْلَۃُ وِتْرٍ تِسْـعٍ اَوْسَبْـعٍ اَوْ خَامِـسَـۃٍ اَوْ ثَالِـثَـۃٍ اَوْ اٰخِرِ لَیْلَۃٍ۔(مسند احمد بن حنبل عن عبادۃ الصامت) یعنی لیلۃ القدر رمضان کی آخری دس راتوں میں ہوتی ہے انتیسویں یا ستائیسویں یا پچیسویں یا تئیسویں یا رمضان کی آخری رات۔امام احمد بن حنبل نے ابوذرؓ سے روایت کی ہے کہ میں نے لیلۃ القدر کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اَفِیْ رَمَضَانَ ہِیَ اَوْ فِیْ غَیْـرِہٖ یا رسول اللہ لیلۃ القدر رمضان میں ہے یااس کے سوا کسی اور مہینہ میں ؟ اس پر آپ ؐ نے فرمایا ہِیَ فِیْ رَمَضَانَ۔وہ رمضان میں ہے۔پھر میں نے پوچھا کہ کیا صرف انبیاء کے زمانہ میں ہوتی ہے جب وہ فوت ہو جائیں تو پھرنہیں ہوتی یا قیامت کے دن تک قائم رہے گی قَالَ بَلْ ہِیَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔فرمایا نہیں وہ قیامت تک ہے۔میں نے پوچھا رمضان کے کس حصہ میں ہوتی ہے ؟ اس پر فرمایا اِلْتَمِسُوْھَا فِی الْعَشْـرِالْاُوَلِ وَالْعَشْـرِالْاَوَاخِرِلَا تَسْأَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ بَعْدَھَا۔یعنی یا تو پہلے دہاکہ میں اس کی تلاش کیاکرو یا آخری دہاکہ میں۔اس کے بعد مجھ سے اس بارہ کوئی سوال نہ کرنا۔اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر باتیں کرتے رہے میں نے موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ میرا جوآپ پر حق ہے اسی کی قسم دیتے ہوئے کہتا ہوں کہ رمضان کے کون سے دہاکہ میں لیلۃالقدر ہوتی ہے؟اس پر آپ ناراض ہوئے اور فرمایا اِلْتَمِسُوْھَا فِیْ سَبْعِ الْاَوَاخِرِ لَاتَسْاَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ بَعْدَھَا یعنی آخری سات راتوں میں لیلۃالقدر کو تلاش کرو اور دیکھنا اس کے بعد اس بارہ میں مجھ سے کوئی سوال نہ کرنا۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کی آخری سات راتوں میں سے کسی رات میں وہ ہوتی ہے(مسند احمد بن حنبل عن ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ )۔ابودائود نے اپنی سنن میں عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لیلۃالقدر کے بارہ میں سوال کیا گیا اور میں بھی سن رہا تھا۔اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ لیلۃالقدر ہررمضان میں آتی ہے۔(سنن ابی داؤد باب تفریع ابواب شھر رمضان باب من قال ھی فی کل رمضان)