تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 451

یَتَأَتّٰی مِنْہُ غَیْـرُ مَاقَدَّرَہٗ فِیْہِ کَتَقْدِیْرِہٖ فِی النَّوَاۃِ اَنْ یَّنْبُتَ مِنْـہَا النَّخْلُ دُوْنَ التُّفَّاحِ وَالزَّیْتُوْنِ۔۔۔۔۔۔۔فَتَقْدِیْرُاللہِ عَلٰی وَجْھَیْنِ اَحَدُھُمَا بِالْـحُکْمِ مِنْہُ اَنْ یَّکُوْنَ کَذَا اَوْ لَا یَکُوْنَ کَذَا اِمَّا عَلٰی سَبِیْلِ الْوُجُوْبِ وَ اِمَّا عَلٰی سَبِیْلِ الْاِمْکَانِ وَ عَلٰی ذَالِکَ قَوْلُہٗ قَدْ جَعَلَ اللہُ لِکُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا (الطلاق:۴) وَالثَّانِیْ بِاِعْطَاءِ الْقُدْرَۃِ عَلَیْہِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وَ قَوْلُہٗ اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ۔۔۔۔۔اَیْ لَیْلَۃً قَیَّضَھَا لِاُمُوْرٍ مَّـخْصُوْصَۃٍ۔یعنی اللہ تعالیٰ کی تقدیر دو طرح ظاہر ہوتی ہے (۱) کسی کو قدرت دے کر(۲)دوسرے اس طرح کہ کسی چیز کو حکمت کے تقاضٰی کے مطابق مخصوص اندازہ پر بناتا ہے اور مخصوص طریق پر اس کی ساخت کی بناء رکھتا ہے اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے افعال دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک تو یہ کہ کسی چیز کو ایک ہی بار مکمل طور پر پیدا کر دیتا ہے۔پھر اس کے بعد اس میں کمی بیشی نہیں ہوتی جب تک کہ اسے خدا تعالیٰ فنا نہ کر دے یا بدل نہ ڈالے جیسے کہ زمین وآسمان کی پیدائش ہے اور ایک تقدیر اس کی اس طرح ہوتی ہے کہ ایک چیز کو اس طرح پیدا کرتا ہے کہ اصولی طور پر تو وہ موجود ہوتی ہے مگر اس کے تفصیلی خواص پوشیدہ ہوتے ہیں مگر ہوتے موجود ہیں۔ان کے خلاف اس چیز سے کچھ ظاہر نہیں ہو سکتا۔مثلا کھجور کی گٹھلی ہے اس گٹھلی میں اصولی طور پر کھجور کی خاصیتیں موجود ہیں مگر کھجور کی تفصیلات اس سے گٹھلی ہونے کی حالت میں ظاہر نہیں مگر جب بھی اسے بوئو اس میں سے کھجور ہی نکلے گی۔سیب یا زیتون نہیںنکلے گا۔پس اس کی تقدیر اجمالی ہے مگر وہ اجمال ایک تفصیل کو اپنے اندر پوشیدہ رکھتا ہے جب وہ اجمال کھلنا شروع ہو گا اس سے وہی تفصیل پیدا ہوگی جو اللہ تعالیٰ نے اس میں مخفی رکھی ہے اس کے خلاف اور کوئی تفصیل پیدا نہ ہوگی۔غرض تقدیر الٰہی دو طرح ظاہر ہوتی ہے یا تو حکم سے کہ وہ فرما دیتا ہے کہ ایسا ہو یا ایسا نہ ہو۔پس جسے کہتا ہے ہو جا وہ ضرور ہوتا ہے اور جس کی نسبت کہتا ہے ایسا نہ ہو اس کے لئے ہونا ممکن نہیں ہوتا۔اسی معنوں میں قرآن کریم میں آتا ہے قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا (الطلاق:۴) کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے لئے ایک اندازہ مقرر کر دیا ہے جو مثبت خواص اس میں رکھے ہیں ان کے سوا اس سے ظاہر نہیں ہوتے اور جن باتوں کی اس سے نفی کی ہے وہ اس سے ظاہر نہیں ہو سکتیں۔زبان ضرور میٹھے کھٹے کے فرق کو محسوس کرتی ہے مگر سن نہیں سکتی۔کان کو کتنا کہو نہ سن وہ ضرور سنتا ہے مگر اس سے کہو کہ چکھ تو کبھی نہیںچکھتا۔دوسرے خدا تعالیٰ کی قدرت اس طرح ظاہر ہوتی ہے کہ اس نے قدرت بعض اشیاء میں پیدا کر دی ہے مگر وہ فوراً ظاہر نہیں ہوتی بلکہ اپنے اپنے وقت پر ظاہر ہوتی رہتی ہے گویا یوں کہہ لو کہ اس کی قدرت کے کچھ درخت ہیںاور کچھ گٹھلیاں۔قدرت کے درخت تو اپنی کامل شان سے شروع سے ہی مقررہ پھل دیتے ہیں کوئی کمی بیشی نہیں ہوتی۔قدرت کی گٹھلیاںاپنے اندر مخفی مادہ رکھتی ہیںجب گٹھلی لگائو گے وہی ظاہر ہو گا جو