تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 450
اور اس کی اہمیت تاریخی تحقیق سے زیادہ ہے بھی نہیں۔کیونکہ جس تاریخ کو قرآن کریم نازل ہو ااس کے معلوم ہونے سے روحانیت کو کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچتا۔محدثین عام طور پر چوبیس تاریخ کی رو ایت کو مقدم بتاتے ہیں چنانچہ ابن حجر عسقلانی بخاری کی مشہور شرح کے مصنف اور علامہ زرقانی مواہب اللدنیہ سیرۃنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شارح جنہوں نے شرح مواہب اللدنیہ آٹھ جلدوں میں لکھی ہے دونوں نے اسی روایت کو ترجیح دی ہے کہ قرآن کریم رمضان کی چوبیسویں تاریخ کو اترنا شروع ہوا(شرح الزرقانی باب اول فیما کان یخص صلی اللہ علیہ وسلم بہ رمضان من العبادات۔فتح الباری الـجزء التاسع حدیث ۴۹۷۸)۔اس کے بر خلاف مورخ زیادہ تر سترھویں رمضان کی روایت کو ترجیح دیتے ہیں(تفسیر ابن کثیر زیر سورۃ القدر)۔اور قرآن کریم کا یہ فرمانا کہ ہم نے قرآن کریم کو لیلۃ القدر میں نازل کیا ہے اور اس کی یاد میں رمضان کے آخری عشرہ میں لیلۃ القدر کا مقرر کیا جانا یہ دونوں باتیں مل کر اس امر کو ثابت کر دیتی ہیں کہ قرآن کریم کا نزول بہر حال رمضان میں شروع ہوا۔پس اگر اس آیت کے یہ معنے کئے جائیں کہ قرآن کریم کے نازل ہونے والی مخصوص رات لیلۃ القدر تھی تو اس لحاظ سے محد ثین کے فیصلہ کے مطابق یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ لیلۃ القدر سے مراد اس جگہ چوبیسویں رمضان ہے اور آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم نے چوبیسویں رمضان کو قرآن کریم نازل کیا ہے جو نزول قرآن کی وجہ سے لیلۃ القدر کہلانی چاہیے۔لیکن تاریخی تحقیق کے مطابق صرف اتنا معلوم ہو گا کہ قرآن کریم کے نزول کا زمانہ رمضان کی کسی تا ریخ کو تھا۔لفظ قدر کے لغوی معنی اس رات کو جس میں قرآن کریم نازل ہوا لیلۃ القدر کیوں کہا گیا ہے اس کی وجہ خود لفظ قدرسے ظاہر ہے۔حل لغات میں قدرکے معنے لکھے جا چکے ہیں لیکن یاد کو تازہ کرنے کے لئے دو لغات کی کتابوں میں سے کہ ایک قرآن کریم کی لغت کی خاص تفسیر ہے اور ایک عام عربی زبان کی لغت کی اہم کتاب ہے قدرکے معنے دوبارہ یہاں لکھ دیئے جاتے ہیں۔مفردات راغب میں جو قرآن کریم کی لغت کی ایک معتبر کتاب ہے لکھا ہے اَلْقَدْرُ وَالتَّقْدِیْرُ تَبْیِیْنُ کَمِیَّۃِ الشَّیْءِ۔قدراور تقدیر کے معنے کسی چیز کے اندازہ کا ظاہر کرنا ہوتے ہیں۔پھر لکھا ہے تَقْدِیْرُ اللہِ الْاَشْیَاءَ عَلٰی وَجْھَیْنِ اَحَدُھُمَا بِـاِعْطَاءِ الْقُدْرَۃِ وَالثَّانِیْ بِاَنْ یَّـجْعَلَھَا عَلٰی مِقْدَارٍ مَّـخْصُوْصٍ وَّ وَجْہٍ مَّـخْصُوْصٍ حَسْبَمَا اقْتَضَتِ الْـحِکْمَۃُ وَ ذَالِکَ اَنَّ فِعْلَ اللہِ تَعَالٰی ضَـرْبَانِ ضَـرْبٌ اَوْجَدَہٗ بِالْفِعْلِ وَ مَعْنٰی اِیْـجَادِہٖ بِالْفِعْلِ اَنْ اَبْدَعَہٗ کَامِلًا دَفْعَۃً وَّاحِدَۃً لَا تَعْتَـرِیْہِ الزِّیَادَۃُ وَالنُّقْصَانُ اِلٰی اَنْ یَّشَاءَ اَنْ یُّفْنِیَہٗ اَوْ یُبَدِّلَہٗ کَالسَّمٰوٰتِ وَمَا فِیْـھَا وَمِنْـہَا مَا جَعَلَ اُصُوْلَہٗ مَوْجُوْدَۃً بِالْفِعْلِ وَاَجْزَاءَہٗ بِالْقُوَّۃِ وَقَدَّرَہٗ عَلٰی وَجْہٍ لَّا