تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 452

خدا تعالیٰ نے اس میں طاقت رکھی ہے مگر گٹھلی نہ لگائو تو خدا تعالیٰ کی تقدیر اس گٹھلی کے ساتھ ہی غائب ہو جائے گی گویا یہ قدرت ضرور نہیں کہ ظاہر ہو مگر جب ظاہر ہو گی تو اسی طرح ظاہر ہو گی جس طرح خدا تعالیٰ نے اس کے لئے ظاہر ہونا مقدر کیا ہے۔انسان کے نطفہ میں انسان بننے کی قدرت ہے مگر ضروری نہیں کہ ہر نطفہ بچہ بن جائے کئی نطفے منی کے ساتھ ہی ضائع ہو جاتے ہیں۔کئی ماں کے پیٹ سے قبل از وقت نکل جاتے ہیں۔کئی مردہ پیدا ہوتے ہیں۔کئی ناقص پید اہوتے ہیں ہاں جو بچہ بھی پیدا ہو گا ،ہوگا انہی خواص سے جو اللہ تعالیٰ نے انسان میں رکھے ہیںغیر انسانی خواص لے کر پیدا نہ ہو گا۔گویا اس تقدیر کے لئے ایک نقطہ مقرر نہیں ایک دائرہ مقرر ہے اس کے اندر یہ آگے پیچھے ہو سکتا ہے۔پھر لکھا ہے اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ سے یہ مراد ہے کہ ہم نے قرآن اسی رات میں اتارا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے خاص امور کے لئے مخصوص کر چھوڑا تھا۔مفردات کی اوپر کی عبارت سے ظاہر ہے کہ قَدْرٌ کے معنے اظہار قدرت کے ہیں جو دو طرح ہوتی ہے۔اوّل اسی تقدیر سے جو ایک مخصوص شکل میں ظاہر ہو جاتی ہے اس میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔صاحب مفردات نے آسمان وزمین کی مثال دی ہے مگر یہ مثال کامل نہیں بہرحال اس سے اس قسم کی تقدیر کا ایک موٹا اندازہ ہو جاتا ہے ورنہ اصل مثال اس کی وہ تقدیر ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفات کے متعلق ظاہر ہوتی ہے جسے قانون قدرت کہتے ہیں یعنی وہ قانون جو اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کے ظہور کے لئے مقرر فرمایا ہے۔مثلاً یہ کہ مردے اس دنیا میں جسمانی طور پر زندہ ہوکر نہیںآتے۔یا غیب کامل کا علم خدا تعالیٰ کے بتائے بغیر کوئی نہیں جانتا۔تُک بندی ٹھیک ہو جائے تو یہ اور بات ہے علم کی بناء پر کوئی شخص غیب کامل کو اللہ تعالیٰ کے بتائے بغیر نہیں جان سکتا وغیرہ وغیرہ۔دوسرے ایسی تقدیر سے جو بالاجمال ظاہر ہوتی ہے۔ایک ہی وقت میں ساری تقدیر کا اظہار نہیں ہو جاتا آہستہ آہستہ وہ تقدیر ظاہر ہوتی ہے اور ایک مقرر قانون کے مطابق ظاہر ہوتی ہے۔پھر لکھا ہے کہ لیلۃ القدر سے مراد وہ رات ہے جسے خاص امور کے لئے اللہ تعالیٰ نے مخصوص کر چھوڑا تھا۔ان معنوں کے بتانے کے بعد میں باری باری دونوں معنوں کے رو سے اس آیت کے معنے کرتا ہوں۔پہلے معنے یہ تھے کہ قَدْر سے خدا تعالیٰ کی دو قسم کی قدرتوں میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ قدر کا لفظ خدا تعالیٰ کی دونوں قدرتوں کی طرف اشارہ کرتا ہے لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ ضرور دونوں قدرتوں میں سے ایک ہی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک نہ ایک قسم کی قدرت کی طرف اس سے ضرور اشارہ ہوتا ہے مگر ایک ہی وقت میں دونوں قدرتوں کی طرف بھی اشارہ ہوتا