تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 38
لڑکاہے اس کو یہی شوق ہے کہ بڑاہوکر میں کاتب بنوں گا معلوم ہوتا ہے اس نے کسی کاتب کونہایت خوشخط حروف لکھتے دیکھا تو اس کو بھی خیال آگیا کہ میںبھی بڑا ہو کر کاتب بنوں گا اور اسی طرح خوبصورت طریق پر لکھاکروںگا۔ہمارے ملک کی تباہی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بچوں کے مذاق اور ان کی طبیعت کی مناسبت کا خیال نہیں رکھا جاتا اور بڑے ہو کر ان کو ایسے کاموں پر لگا دیا جاتا ہے جن کے ساتھ ان کی طبیعت کی کوئی مناسبت نہیں ہوتی نہ ان کاموں کی طرف ان کا کوئی ذاتی میلان ہوتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ساری عمر کام کرنے کے باوجود وہ ترقی سے محروم رہتے ہیں۔حالانکہ طریق یہ ہونا چاہیے کہ یا تو بچوں کے مذاق اور ان کی طبیعت کے مطابق ان کے لئے کام مہیا کیا جائے اور یاپھر بچپن میں ہی ان کے اندر وہ رنگ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے جو رنگ ماں باپ ان میں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔مگر ہمارے ملک میں نہ والدین بچہ میں اپنی مرضی کا صحیح مذاق پیدا کرتے ہیں نہ اس کے مذاق اور طبیعت کی مناسبت کو ملحوظ رکھتے ہیں اور اس طرح اس میں دوغلہ پن پیدا ہو جاتا ہے۔جب وہ بڑا ہوتا ہے تو چونکہ اس کا طبعی میلان اور ہوتاہے اور سپرد شدہ کام اور ہوتا ہے اس لئے اس کے نفس میںلڑائی شروع ہو جاتی ہے اور آخری نتیجہ یہ نکلتاہے کہ اس کا دماغ بالکل کُند ہو جاتا ہے۔آئندہ نسلوں کی درستی اور قوموں کی ترقی کی صرف دو ہی صورتیں ہوتی ہیں یا تو وعظ اور نصیحت سے بچوں کو صحیح مذاق کی طرف لایا جائے اور ان کے لئے بچپن سے ہی ایسا ماحول پیدا کر دیا جائے کہ وہ وہی کچھ سوچنے لگیں جو ہم چاہتے ہیں اور وہی کچھ دیکھنے لگیں جو ہم چاہتے ہیں۔اور اگر ہم ان کو آزاد چھوڑ دیتے ہیں اور اپنی مرضی کا صحیح مذاق ان میں پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے تو پھر دوسری صورت یہ ہے کہ بچوں کے مذاق کو ملحوظ رکھا جائے۔اگر کوئی انجنیئر بننا چاہتا ہے تو اسے انجنیئر بنا دیا جائے، اگر کوئی ڈاکٹر بننا چاہتا ہے تو اسے ڈاکٹر بنا دیا جائے، اگر کوئی مدرس بننا چاہتا ہے تو اسے مدرس بنا دیا جائے کیونکہ ہم نے اس کے اندر اپنا وجود پیدا نہیں کیا اور جب اپنا وجود ہم نے اس کے اندر پیدا نہیں کیا تو اب اگر اس کے ذاتی مذاق کو بھی ہم ٹھکرا دیں تو یہ بالکل بچوں والی بات ہو جائے گی جو کھلونے لے کر توڑ دیتے ہیں مگر پھر بھی ان کو حقیقت معلوم نہیں ہوتی۔ہم بھی اس ذریعہ سے قوم کے ایک مفید حصہ کو ضائع کرنے والے قرا ر پائیں گے۔پھر ہم دیکھتے ہیں مختلف علوم میں انسان کا شغف اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ وہ بعض دفعہ غیب معلوم کرنے کے لئے اپنی عقل سے راستے تلاش کرنا شروع کر دیتا ہے چنانچہ یورپ کو دیکھ لو وہ علوم میں کس قدر ترقی کر چکا ہے۔مگر ادھر تو یہ حال ہے کہ یورپ خدا تعالیٰ کا انکار کر رہا ہے، مذہب سے بالکل لا پروا ہے اور ادھر اس کی حماقت کا یہ حال ہے کہ ذرا کوئی کہہ دے میں ہتھیلی دیکھ کر آئندہ کے حالات بتا سکتاہوں تو بڑے بڑے لائق پروفیسر اور وکیل اور