تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 39
ڈاکٹر اور انجنئیر اپنے ہاتھ کھول کر اس کے سامنے بیٹھ جائیں گے اور کہیں گے کہ ہمیںآئندہ کے حالات بتائیے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے اندر فطرتی طورپر یہ مادہ ہے کہ وہ حقیقت ِ عالم اور راز ِ کائنا ت کو معلوم کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے اپنے جھوٹے علم پر غرور کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کا تو انکار کر دیا مگر فطرت میںجو جستجو تھی کہ اس دنیا کا ایک منبع ہے جس کو دریافت کرنا چاہیے اس جستجو کو وہ نہ مٹا سکے چنانچہ غیب معلوم کرنے کے لئے ہاتھ دکھانا صاف بتا رہا ہے کہ انسان کی اس مادی دنیا سے تسلی نہیں ہو سکتی وہ علوم ماوراء الطبعیات کے حصول کے لئے ہر وقت پریشان رہتا ہے اور یہی پیاس ہے جو اسے کبھی کسی راستہ پر لے جاتی ہے اور کبھی کسی راستہ پر۔کوئی پامسٹری میںلگا ہوا ہے، کوئی تاش کے پتوں سے غیب معلوم کرنا چاہتا ہے، کوئی ستاروں کو دیکھ کر ان سے آئندہ کے حالا ت معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہے، کوئی زمین پر لکیریں کھینچ کھینچ کر غیب معلوم کرتا ہے، کوئی تسبیح کے منکے مار مار کر یہ کوشش کرتا ہے کہ اسے غیب کی کوئی خبر معلوم ہو جائے۔طاق منکا آجائے تو کہتے ہیں کامیابی ہو گی اور اگر جفت آجائیںتو کہتے ہیں ناکامی ہو گی۔اسی طرح بعض لوگ قرعہ ڈالتے ہیں۔بعض تیروں سے آئندہ کے حالات معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔غرض یہ خواہش کہ راز ِ کائنات دریافت کئے جائیں ہر شخص میںپائی جاتی ہے یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ اُس کے لئے صحیح طریق اختیار کرتا ہے یا غلط۔میںایک دفعہ کراچی گیا تو مجھے معلوم ہوا کہ منڈی میں کپاس کی قیمت بڑھنے لگی ہے اُس وقت بظاہر آثار ایسے تھے جن سے معلوم ہوتا تھا کہ کپا س کی قیمت گر جائے گی مگر ہوا یہ کہ اس کی قیمت بڑھ گئی۔میںنے لوگوںسے پوچھا کہ بات کیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ امرتسر سے ایک سادھو آیا ہے اس سے تاجروں نے آئندہ کے بعض حالات دریافت کئے تو اُس نے کہا کہ کپاس کی قیمت بڑھ جائے گی۔یہ سنتے ہی تمام تاجروں نے کپاس خریدنی شروع کر دی اور اس کی قیمت بڑھ گئی۔مگر چونکہ کوئی حقیقی طاقت اس کے پیچھے نہیں تھی دو چار دن تو قیمت چڑھی مگر پھر کم ہونے لگی اور اس قدر کم ہو گئی کہ کئی تاجروں کے دیوالے نکل گئے۔طبعی اصول تو یہ ہے کہ چیز کم ہو اور کارخانوں کی مانگ زیادہ ہو اُس وقت قیمت بے شک بڑھتی ہے لیکن اگر چیز کافی ہو اور کسی عارضی وجہ سے گاہک زیادہ آگئے ہوں تو اس کی قیمت میں عارضی طور پر اضافہ ہو سکتا ہے چنانچہ اس کے بعد کراچی کے کئی تاجروں کے دیوالے نکل گئے کیونکہ بمبئی والوں نے اس قیمت پر روئی خریدنے سے انکار کر دیا، نیو یارک والوں نے انکار کردیا، لنکا شائر والوں نے انکار کر دیا اوراس طرح ہزاروں دیوالیہ ہو گئے۔اب یہ ایک حماقت کی بات تھی کہ کسی سادھو سے دریافت کیا جائے کہ آئندہ کے حالات بتائو اور پھر جو کچھ وہ اناپ شناپ بتادے اس کے مطابق عمل شروع کر دیا جائے مگراس حماقت کا ارتکاب ان سے اسی لئے ہوا کہ انسان چاہتا ہے مجھے علمِ غیب کا کسی طرح پتہ