تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 37

میںاس قسم کی کتابیںلکھی گئی ہیںجن میں بچوں کے ان سوالات کے جوابات درج ہوتے ہیں۔وہ کہتے ہیں جب بچہ اس قسم کے سوالات کرتا ہے درحقیقت وہی وقت اس کے دماغی نشوونما کا ہوتا ہے مگر ماں باپ کو چونکہ خود ان سوالات کا صحیح جواب معلوم نہیں ہوتا وہ ادھر ادھر کی باتوں میں اس کے سوال کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔جب وہ بجلی کے متعلق پوچھتا ہے کہ یہ کیا ہے تو ہر شخص فوراً جواب نہیںدے سکتا کہ یہ کیا ہے اگر وہ کہے گا کہ بجلی ہے تو بچہ کہے گا بجلی کیا ہوتی ہے؟ اس پر کئی لوگوں کو خاموش ہونا پڑتا ہے اور کئی یہ کہہ کر بچے کو خاموش کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ تمہیںاس کا پتہ نہیںیہ لیمپ ہے جو جل رہا ہے۔پس چونکہ اکثر ماں باپ بچوں کے سوالات کا صحیح جواب نہیںدے سکتے اس لئے یورپ میں اس قسم کی کئی کتابیںلکھی گئی ہیں جن میں بڑی بڑی علمی باتیں آسان الفاظ میں بیان ہوتی ہیں تا کہ جب بچہ تم سے پوچھے کہ یہ کیا ہے یا وہ کیا ہے تو تم ایسا جواب دے سکو جو صحیح ہو اور جسے بچہ سمجھ سکے۔پھر بچہ میں ایک یہ بات بھی پائی جاتی ہے کہ جب اس سے کوئی غلط بات کہہ دو تو وہ رونے لگ جاتا ہے اگر روٹی پڑی ہو اور کہہ دو کہ روٹی نہیں ہے تو وہ چیخیںمار کر رونا شروع کر دے گا یا بچہ بیمار ہو اور تم اسے کہہ دو کہ تم بیمار نہیںہو تو وہ جھٹ رونا شروع کر دے گا کیونکہ اس میں یہ حس پائی جاتی ہے کہ میرے سامنے سچی بات بیان کی جائے۔اسی طرح کوئی کھلونا بچے کو دے دو تھوڑی دیر کے بعد ہی وہ اسے توڑ پھوڑدیتا ہے ا س کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ پہلے وہ اس کی شکل سے اس کی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہے اور جب شکل سے اسے کچھ معلوم نہیں ہوتا تو وہ سمجھتا ہے شاید اس کے اندر کوئی حقیقت پائی جاتی ہے چنانچہ وہ اس حقیقت کی جستجو میںاسے توڑ دیتا ہے اور پھر توڑ کر خود ہی رونے لگ جاتا ہے لوگ حیران ہو تے ہیں کہ خود ہی اس نے کھلونا توڑا ہے اور خود ہی رونے لگ گیا ہے وہ یہ نہیںسمجھتے کہ بچہ روتااس لئے ہے کہ میں نے تو کھلونا اس لئے توڑا تھا کہ مجھے پتہ لگے اس کے اندر کیا ہے مگر مجھے پھر بھی کچھ معلوم نہیں ہوا۔وہ اس لئے نہیں روتا کہ کھلونا کیوں ٹوٹا ہے کیونکہ وہ تو اس نے خود توڑا ہوتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ وہ کھلونے کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے اس کو توڑتا ہے مگر جب اس کی حقیقت معلوم نہیں ہوتی تو رونے لگ جاتا ہے، سمجھتا ہے کہ کھلونابھی گیا اور یہ بھی پتہ نہ لگا کہ اس کی کیا حقیقت تھی۔پھر جب بڑا ہوتاہے تو مختلف علوم کا اسے شغف ہو جاتا ہے۔دراصل یہ شغف بھی اپنی اپنی مناسبت کے لحاظ سے ہوتا ہے کبھی بچے باہر جاتے ہیں اور وہ کسی لوہار کو کام کرتا دیکھتے ہیں تو وہیںکھڑے ہو جاتے ہیں کہ یہ کام کس طرح کرتا ہے۔کبھی کسی نجّار کو دیکھتے ہیں تو اس کے کام کو دیکھنے میں محو ہو جاتے ہیں۔اس طرح اپنی اپنی مناسبت کے لحاظ سے کسی کو لوہار ے کام کا شوق ہو جاتا ہے، کسی کو نجاری کا کام پسند آ جاتا ہے، کسی کو معماری کا کام پسند آجاتاہے،کسی کو کوئی اور کام پسند آ جاتا ہے ہمارے ہاں ایک ملازمہ کا