تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 36

کہہ سکتے تھے کہ ہم پر یہ مثال چسپاں نہیں ہو سکتی لیکن جب نفوسِ انسانی میںاعتدال کو اختیار کر کے ترقی کرنے کا مادہ پایا جاتا ہے توتم یہ نہیںکہہ سکتے۔نفسِ انسانی خود اس امر پر شاہد ہے کہ کوئی نور اُسے آسمان سے ملنا چاہیے جس طرح زمین آسمانی روشنی کی محتاج ہوتی ہے اسی طرح تم آسمانی نور کے محتاج ہو۔تم دیکھتے ہو کہ اگر آسمان سے پانی نہ برسے تو زمین کی تمام سرسبزی و شادابی مٹ جاتی ہے۔اس کے درخت مرجھا جاتے ہیں، اس کے پانی خشک ہو جاتے ہیں، اس کی روئیدگیاںگل سڑ جاتی ہیں اور وہی زمین جو اپنی لطافت سے انسانی آنکھو ں میںنور پیدا کر رہی ہوتی ہے ایک لمبے عرصہ تک بارش نہ ہونے کے نتیجہ میں ایسی بنجر اور ویران ہو جاتی ہے کہ اسے دیکھ کر انسان گھبرا جاتا ہے یہی حال عالمِ روحانی کا ہے آسمان سے جب تک وحی و الہام کا پانی نازل نہ ہو روحانیت کے تما م کھیت مرجھا جاتے ہیں تمام روئیدگیاں گل سڑ جاتی ہیں اور وحی و الہام کی بارش منقطع ہونے سے ارتقا ء دماغی بھی بند ہو جاتا ہے اس وقت یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ جس طرح آسمان کا زمین کے ساتھ تعلق ہے اسی طرح وحی و الہام کا قلوب ِ انسانی کے ساتھ تعلق ہے۔اگر آسمان زمین کی ہوا کو صاف نہ کرتا رہے تو انسانوں کا زندہ رہنا مشکل ہو جائے کیونکہ وہ گندی ہوا جو سانس کے ذریعہ پھیپھڑوں میںسے خارج ہوتی ہے جمع ہوتی رہے او ر وہی دوبارہ انسان کو اندر لے جانی پڑے مگر اللہ تعالیٰ نے یہ قانون بنا دیا ہے کہ گرم ہوا اوپر اٹھتی ہے اور اس کی جگہ سرد ہوا آجاتی ہے جو ہر قسم کے مضر اثرات سے پاک ہوتی ہے۔اگر کسی کمرہ میںپانچ سو یا ہزار آدمی بیٹھے ہوں اور ان کے سانس کی ہوا اوپر کو نہ جائے اور نہ اس کی جگہ تازہ ہوا آئے تو چند منٹ میں ہی تمام لوگ مر جائیںمگر اب کسی کو احساس بھی نہیںہوتا کہ ہم اپنے تنفس سے ہوا کو کس قدر گندہ کر رہے ہیں کیونکہ آسمان ساتھ ہی ساتھ صفائی کا کام کر رہا ہوتا ہے بلکہ بعض دفعہ ضرورت سے بھی زیادہ آدمی ایک کمرہ میںاکٹھے ہو جاتے ہیں تو ان کو کوئی نقصان نہیں ہوتا کیونکہ انسان جس ہوا کو گندہ کرتا ہے آسمان اسے اٹھا کر لے جاتا ہے اور اس کی جگہ پاکیزہ ہوا میسر آجاتی ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ زمین بغیر آسمانی اشتراک کے کوئی کام نہیںکر سکتی۔اب بتاتا ہے کہ جس طرح زمین میں مختلف قسم کی قابلیتیںپائی جاتی ہیں اسی طرح نفسِ انسانی میں بھی مختلف قسم کی قابلیتیں پائی جاتی ہیں۔انسان کے اندر ایک تڑپ ہے ترقی کی، پیاس ہے صداقت کی، ندامت ہے غلطی پر اور ہر شے کی حقیقت معلوم کرنے کی اس کے اندر جستجو ہے۔بچہ ابھی بولنا ہی سیکھتا ہے تو ماںباپ کا دماغ چاٹ لیتا ہے اور بات بات پر پوچھتاہے یہ کیا ہے وہ کیا ہے۔لیمپ نظر آتا ہے تو پوچھتا ہے یہ کیا ہے، بلی نظر آتی ہے تو پوچھتا ہے یہ کیا ہے، کتا نظر آتا ہے تو پوچھتا ہے یہ کیا ہے غرض ہر نئی چیز جو اس کے سامنے آتی ہے اس کے متعلق وہ اپنی ماں یا اپنے باپ سے یہ ضرور دریافت کرتا ہے کہ یہ کیا ہے۔یورپ میںکئی کئی جلدوں