تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 404

تو دیا ہی نہ اور بعض نے صاف طور پر اعتراف کیا کہ ہمارا مذہب اس بارہ میں بالکل خاموش ہے۔چنانچہ ایک بڑے بشپ کی طرف سے بھی یہی جواب آیا کہ اس مضمون کے متعلق ہماری کتب میں کوئی تفصیل نظرنہیں آتی۔مگر اسلام نے ان امور پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے کہ نبی کی کیا تعریف ہے۔نبی کب آتے ہیں۔لوگ نبیوں سے کیسا سلوک کرتے ہیں۔نبیوں کی صداقت کے کیا معیار ہیں یہ اور اسی قسم کے اور تمام مسائل اسلام میں پوری وضاحت کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔پس فرماتا ہے عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ۔اللہ تعالیٰ تمام علوم کی تکمیل قرآن کریم کے ذریعہ کرے گا۔بے شک توحید کا عقیدہ دنیا میں موجود ہے مگر ابھی اس کی تکمیل نہیں ہوئی۔اسی طرح بے شک ملائکہ کو لوگ مانتے ہیں، کتب پر ایمان رکھتے ہیں، رسولوں کو تسلیم کرتے ہیں مگر ملائکہ، کتب الٰہیہ اور ایمان بالرسل کی حقیقت سے پوری طرح واقف نہیں۔اگر ان سے پوچھا جائے کہ خدا کے ایک ہونے کا کیا مفہوم ہے تو وہ اس کا جواب دینے سے قاصر رہیں گے۔لیکن قرآن دنیا کو بتلائے گا کہ توحید کا کیا مفہوم ہے اور کون کون سی باتیں انسان کو شرک میں مبتلا کرنے والی ہیں یا مثلاً اگر کوئی شخص سوال کرے کہ ملائکہ کیا چیز ہیں، وہ کیوں پیدا کئے گئے ہیں، کیا کیا کام ان کے ذمہ ہیں، اگر ملائکہ نہ ہوتے تو کیا نقص واقعہ ہوتا؟ تو ان سوالات کا تمام بائبل سے جواب نظر نہیں آئے گا۔بائبل یہ تو بتادے گی کہ خدا تعالیٰ نے فرشتے پید اکئے ہیں اور وہ انبیاء کی طرف اس کا کلام لاتے ہیں مگر ملائکہ کی حقیقت یا ان پر ایمان لانے کے فوائد بیان نہیں کرے گی۔لیکن قرآن صرف یہی نہیں بتائے گا کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں بلکہ یہ بھی بتائے گا کہ اس نے ملائکہ کو کیوں پیدا کیا۔ملائکہ کے کیا کام ہیں۔انسان ملائکہ سے اپنا تعلق کس طرح بڑھاسکتا ہے۔کن امور کے نتیجہ میںملائکہ سے انسانی تعلق کم ہوجاتا ہے۔یا مثلاً اگر کوئی شخص سوال کرے کہ مرنے کے بعد کیا کیفیت ہوتی ہے تو اسلام کے سوا اور کوئی مذہب اس پر تفصیل کے ساتھ روشنی نہیں ڈال سکے گا۔نہ یہودیت مرنے کے بعد کے حالات بتاتی ہے نہ عیسائیت مرنے کے بعد کے حالات بتاتی ہے اور نہ کوئی اور مذہب مرنے کے بعد کے حالات بتاتا ہے۔صرف اسلام دنیا میں ایک ایسا مذہب ہے جو اس پر ایسی سیرکن بحث کرتا ہے کہ انسانی قلب مطمئن ہوجاتا ہے اور اس کی روح اپنے اندر سکینت محسوس کرتی ہے۔اسی طرح اگر یہ سوال ہو کہ اخلاق فاضلہ کیا چیز ہیں۔کس بناء پر بعض اخلاق کو اچھا کہا جاتا ہے اور بعض کو برا۔اخلاق کی تعریف کیا ہے۔اخلاق اور روحانیت میں مابہ الامتیاز کیا ہے؟ تو اس کو ان تمام امور کا جواب صرف قرآن سے ہی مل سکتا ہے اور کتب کی ورق گردانی یا اور مذاہب کی کاسہ لیسی انسانی قلب کو مطمئن نہیں کرسکتی۔اسی حقیقت کی طرف اللہ تعالیٰ نے ان نہایت ہی مختصر مگر جامع الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے کہ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ یعنی قرآن اور اسلام کے ذریعہ دنیا کو وہ وہ علوم سکھائے جائیں