تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 405
کا صیغہ ہے فَکَّ کے اصل معنے کھولنے یا جدا کرنے کے ہوتے ہیں۔پس اِنْفَکَّ کے معنے ہوئے کُھل گیا یا جُدا ہوگیا۔علاوہ ازیں عربی زبان میں اِنْفَکَّ کے مندرجہ ذیل معانی استعمال ہوتے ہیں (۱) کہتے ہیں اِنْفَکَّتْ قَدَمُہٗ: زَالَتْ اُس کا قدم اپنی جگہ سے ہٹ گیا (۲) اِنْفَکَّتْ اِصْبَعُہٗ: اِنْفَرَجَتْ انگلی کھل گئی (۳) اِنْفَکَّ وَرْکُہٗ: زَاغَ عَنْ مَّوْضِعِہٖ۔جوڑ اپنی جگہ سے ہل گیا۔(۴) اِنْفَکَّ الشَّیْءُ الْمُشْتَبِکُ: اِنْفَصَلَ۔جُڑی ہوئی چیز الگ ہو گئی (۵)اِنْفَکَّتِ الْعُقْدَۃُ :اِنْـحَلَّتْ گرہ کھل گئی (۶)اِنْفَکَّتِ الرَّقَبَۃُ مِنَ الرِّقِّ: اُعْتِقَتْ گردن کھل گئی یعنی غلام آزاد کر دیا گیا (اقرب) اور جب محاورہ میں مَاانْفَکَّ یَفْعَلُ کَذَا کہیں تو اس کے معنے ہوتے ہیں مَا زَال وہ کوئی کام کرتا چلا گیا۔ان معنوں میں مَا انْفَکَّ کَانَ کے اخوات میں شمار ہوتا ہے چونکہ اِنْفَکَّ کے معنے الگ ہوجانے کے ہیں اس لئے جب اس سے پہلے نفی آجائے تو اس کے معنے اثبات کے بن جاتے ہیں اور اس صورت میں وہ کسی چیز کے تسلسل کے ساتھ ہونے کے معنے دیتا ہے۔(اقرب) بَیِّنَۃٌ بَیِّنَۃٌ بَیِّنٌ کی مونث ہے اور ان معنوں کے رُو سے یہ لفظ کسی واضح اور جلی چیز کے معنے دیتا ہے لیکن علاوہ اس کے کہ یہ بَیِّنٌ کی مونث ہے اس کے مستقل معنے بھی ہیں اور وہ دلیل اور حجت کے ہیں (اقرب) تفسیر۔قرآنی اصطلاح میں دو قسم کے لوگ اہل کتاب اور مشرک قرآن کریم کے مطالعہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اُس نے تمام بنی نوع انسان کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے ایک حصے کا نام اُس نے اہل کتاب رکھا ہے اور دوسرے حصے کا نام اُس نے مشرک رکھا ہے۔قرآنی اصطلاح کے مطابق دنیا کا کوئی حصہ ان دو قسموں سے باہر نہیں یا تو بنی نوع انسان اہلِ کتاب میں سے ہوں گے یا بنی نوع انسان مشرکین میں سے ہوں گے اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ بظاہر بعض لوگ ایسے بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں۔جنہیں نہ تو اہل کتاب میں سے کہا جا سکتا ہے نہ مشرکوں میں سے۔جیسے دہریہ ہیں۔دہریہ بظاہر نہ اہل کتاب میں سے نظر آتے ہیں نہ مشرکوں میں سے۔لیکن قرآن کریم کی اصطلاح میں وہ دونوں میں سے ایک گروہ میں ضرور شامل ہیں اور قرآنی اصطلاح سے نتیجہ نکالتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ مشرکوں میں شامل ہیں۔درحقیقت اس اصطلاح میں ایک لطیف اشارہ پایا جاتا ہے اور وہ یہ کہ قرآن کریم اس بات کا مدعی ہے کہ توحید بغیر الہام کے نہیں آ سکتی۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک شخص اہل کتاب میں سے ہو اور مشرک ہو لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص اہلِ کتاب میں سے نہ ہو اور موحد ہو۔پس جو اہل کتاب میں سے نہیں وہ ضرور مشرک ہے اور جو اہلِ کتاب میں سے ہے وہ یا موحّد ہے یا مشرک ہے۔کیونکہ توحید نام ہے صفاتِ الٰہیہ کو خدا تعالیٰ کی طرف صحیح طور پر منسوب کرنے کا اور یہ مقام سوائے اہلِ کتاب کے اور کسی کو حاصل نہیں