تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 380
جو کچھ کہا گیا وہ یہ تھا کہ تیری نسل سے ساری قومیں برکت پائیں گی۔موسیٰ سے صرف بنی اسرائیل نے برکت حاصل کی تھی لیکن ابراہیم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ یہ تھا کہ میں تیری نسل کو بڑھائوں گا اور بڑھاتا چلا جائوں گا یہاں تک کہ ارتقاء کی منازل طے کرتے کرتے ایک دن آئے گا کہ ساری دنیا کو دعوت حقہ دی جائے گی اور ساری دنیا کو خدائی آواز پہنچائی جائے گی۔پس موسوی مذہب نے چونکہ ساری دنیا کو دعوت نہیں دی بلکہ موسیٰ کا پیغام مخصوص تھا بنی اسرائیل سے۔اس لئے یہودی مذہب کو اس پیشگوئی کا مصداق قرار نہیں دیا جاسکتا۔دوم حضرت موسٰی خود ایک اور نبی کی خبر دیتے ہیں جو ان کے بعد آنے والا تھا۔چنانچہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے الہام کے ذریعہ یہ خبر دی ہے کہ ’’میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے فرمائوں گاوہ سب ان سے کہے گا اور ایسا ہوگا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کے کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کا حساب اس سے لوں گا۔لیکن وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میںنے اسے حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے‘‘۔(استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸ تا ۲۰) اس جگہ حضرت موسیٰ علیہ السلام یہ پیشگوئی فرمارہے ہیں کہ میرے بعد ایک اور نبی آنے والا ہے جو اپنے ساتھ نئی شریعت لائے گا۔کیونکہ الفاظ یہ ہیں ’’میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گا‘‘۔’’تجھ سا نبی‘‘ کے معنے یہی ہیں کہ جس طرح تو صاحبِ شریعت ہے اسی طرح وہ صاحب شریعت ہوگا۔اگر صرف اتنے الفاظ ہوتے کہ میں ان کے بھائیوںمیں سے ایک نبی برپا کروں گا تو اس کے معنے یہ ہوسکتے تھے کہ جس طرح بنی اسرائیل میں اور کئی غیر شرعی انبیاء آئے اسی طرح ایک غیرشرعی نبی کی آپ نے اس جگہ خاص طورپر خبردی ہے مگر ’’تجھ سا‘‘ کے الفاظ بتارہے ہیں کہ یہاں وہ دوسرے نبی مراد نہیں ہوسکتے جو بنی اسرائیل میں آئے کیونکہ وہ موسیٰ جیسے نہیں تھے۔موسیٰ صاحبِ شریعت نبی تھے اور وہ صاحبِ شریعت نبی نہیں تھے۔پس حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جو پیشگوئی فرمائی ہے اس کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ وہ نبی موسیٰ کی طرح صاحبِ شریعت ہوگا اور اللہ تعالیٰ اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالے گا۔گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق ایک اور صاحبِ شریعت نبی ابھی دنیا میں آنے والا تھا۔پس موسیٰ ارتقائِ روحانی کا آخری نقطہ نہیں ہوسکتے۔پھر کہتے ہیں۔’’خداوند سینا سے آیا اورشعیر سے ان پر طلوع ہوا فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔