تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 379
قرار نہیں دیااور ویدوں کے متعلق ہندوئوں میں اختلاف ہے کہ وہ کن رشیوں پر نازل ہوئے تھے۔ہم انبیاء بنی اسرائیل کے متعلق غور کرتے ہیں کہ آیا پیدائش انسانی کا وہ مقصو دتھے یا نہیں۔انبیاء بنی اسرائیل میں سے وہ نبی جن کی تعلیم سب سے زیادہ واضح ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں۔کسی قدر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعلیم بھی موجود ہے جو بائبل نے پیش کی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدائش انسانی کا آخری نقطہ نہیں اب سوال یہ ہے کہ کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام مخلوق کے نقطۂ مرکزی تھے۔ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔’’تیری نسل اپنے دشمنوں کے دروازہ پر قابض ہوگی اور تیری نسل سے زمین کی ساری قومیں برکت پاویں گی‘‘۔(پیدائش باب ۲۲ آیت ۱۷،۱۸) یعنی تیرے ذریعہ سے نہیں بلکہ تیری نسل کے ذریعہ سے زمین کی ساری قومیں برکت پائیں گی۔تو محدود زمانہ کے لئے اور محدود لوگوں کی ہدایت کے لئے نبی بنایا گیا ہے لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ زمین کی ساری قومیںبرکت پائیں۔ہمارا یہ مدعا تیرے ذریعہ سے پورا نہیں ہوگا بلکہ تیری نسل کے ذریعہ سے پورا ہوگا۔اس سوال کو جانے دو کہ وہ کون سی نسل ہے جس کے ذریعہ یہ وعدہ پورا ہوا۔بہرحال ان الفاظ سے یہ بات واضح ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدائش عالم کا آخری نقطہ نہیں تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان سے صاف طور پر کہہ دیا تھا کہ تو نہیں بلکہ تیری نسل کے ذریعہ سے میں ایسا سامان کروں گا کہ زمین کی ساری قومیں برکت پائیں گی۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ آخری نقطہ نے عالمگیر مذہب کا بانی ہونا تھا کیونکہ اس کے متعلق مقدر یہ تھا کہ زمین کی ساری قومیں اس سے برکت حاصل کریں اور زمین کی ساری قومیں اسی سے برکت حاصل کرسکتی تھیں جو عالمگیر مذہب کا بانی ہوتا۔پس ابراہیمؑ پیدائش انسانی کے ارتقاء کا آخری نقطہ نہیں تھے۔ان کی اپنی پیشگوئی یہ ہے کہ میری نسل میں سے ایک ایسا شخص پیدا ہوگا جس کے ذریعہ دنیا کی ساری قوموں کو دعوت دی جائے گی، دنیا کی ساری قوموں کو برکت دی جائے گی اور دنیا کی ساری قوموں کو ہدایت اور قرب کی راہیں بتائی جائیں گی۔بالفاظ دیگر یہ پیشگوئی ایک عالمگیر مذہب کے بارہ میں تھی اور وہ شخص جس سے دنیا کی ساری قوموں نے برکت حاصل کرنی تھی وہی انبیاء کا منتہائے نظر تھا مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ تک یہ مقصد حاصل نہیں ہوا تھا۔اگرکہا جائے کہ یہ پیشگوئی موسٰی کے ذریعہ پوری ہوچکی ہے تو یہ بالکل غلط ہے کیونکہ یہودی مذہب مختص القوم تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے صرف یہود کی اصلاح کے لئے بھیجا تھا۔حالانکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو