تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 381

دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت ان کےلئے تھی‘‘۔(استثناء باب ۳۳ آیت ۲) پیدائش انسانی کے آخری نقطہ کے متعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئی اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام تین جلوہ گریوں کا ذکر فرماتے ہیں۔’’خداوند سینا سے آیا‘‘ اس سے مراد موسوی ظہور ہے۔’’شعیر سے ان پر طلوع ہوا‘‘ اس سے مراد عیسوی ظہور ہے۔ان دونوں ظہور وں کے بعد ایک تیسرے ظہور کی بھی اس پیشگوئی میں خبر دی گئی ہے وہ ظہور فاران سے ظاہر ہوگا اور آتشی شریعت اس کے ساتھ ہی ہوگی۔اس پیشگوئی سے ظاہر ہے کہ حضرت موسٰی اور عیسیٰ ؑ دورِ نبوت کے آخری نقطے نہ تھے بلکہ سینا اور شعیر کے ظہوروں کے بعد ایک اور ظہور ہونے والا تھا جو اپنے ساتھ شریعت بھی رکھے گا۔فاران سے جلوہ گر ہونے والے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کیونکہ فاران ان پہاڑیوں کا نام ہے جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہیں۔بائبل سے بھی اس کا ثبوت اس رنگ میں ملتا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے بائبل میں لکھا ہے ’’وہ فاران کے بیابان میں رہا‘‘ (پیدائش باب ۲۱ آیت ۲۱) اور اہل مکہ بھی وہ قوم ہیں جو اپنے آپ کو نسل ابراہیم سے قرار دیتے ہیں۔پس فاران کی چوٹیوں سے ظاہر ہونے و الا وجود محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ کے ذریعہ ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔پھراس پیشگوئی میں یہ ذکر ہے کہ وہ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آئے گا۔یہ پیشگوئی بھی ایسی ہے جو سوائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی پر چسپاں نہیں ہوتی۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو صرف بار۱۲ہ حواری ملے تھے جن میں سے ایک نے تیس روپوں کے بدلے آپ کو دشمن کے حوالے کر دیا (متی باب ۲۶ آیت ۱۵) اور باقی صلیب کے وقت ادھر اُدھر بھاگ گئے۔دنیا میں صرف ایک ہی انسان ہے جس کے متعلق تاریخی طور پر یہ ثابت ہے کہ وہ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے لئے آئے تو اس وقت آپ کے لشکر کی تعداد دس ہزار ہی تھی (صحیح بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ الفتح فی رمضان) اور آپؐانہی پہاڑیوں سے چڑھ کر آئے تھے جو فاران کی پہاڑیاں ہیں اور جن کے متعلق بائبل میں پیشگوئی پائی جاتی تھی۔بہرحال اس سے اتنا پتہ لگا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے آپ کو آخری نقطہ قرار نہیں دیا۔پھر اس پیشگوئی میں صاف لکھا ہے کہ ایک آتشی شریعت اس کے ہاتھ میں ہوگی جس کے معنے یہ ہیں کہ ابھی ایک اور شریعت آنے والی ہے اور جب آخری شریعت ابھی باقی تھی تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ بعد کی شریعت پہلی شریعت سے بہتر ہوگی۔پس