تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 378
غرض کوئی چیز لے لو ارتقائی تغیرات میں سے گزرے بغیر وہ عالم وجودمیں نہیں آئی۔جب اللہ تعالیٰ کا جسمانیات میں تمہیںیہ قانون نظر آتا ہے تو تم الہام کے متعلق یہ کس طرح کہہ سکتے ہو کہ پیدائش عالم کے ساتھ ہی کامل الہام نازل ہوگیا جس طرح اللہ تعالیٰ کی ظاہری پیدائش میں ارتقاء کا قانون جاری ہے اسی طرح وحی اور الہام بھی اس قانون سے وابستہ ہے۔یہ نہیں ہوسکتا کہ اور چیزوں میں تو ارتقاء ہو اور الہام میں ارتقاء نہ ہو۔پس خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ نے ہندوئوں کے اس خیال کو ردّ کردیا کہ شریعت پہلے دن ہی مکمل طور پر نازل ہوگئی تھی فرماتا ہے تمہارا یہ خیال بالکل غلط ہے انسان نے بہرحال ترقی کرتے کرتے کامل شریعت کے مقام تک پہنچنا تھا یہ نہیں ہوسکتا تھا کہ پہلے دن ہی اسے کامل شریعت عطا کردی جاتی۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب عیسائیوں کی تھیوری بھی باطل ہے، یہودیوں کا خیال بھی غلط ہے اور ہندوئوں کا نظریہ بھی ناقابل قبول ہے تو پیدائش انسانی کا مقصد کس رنگ میں پورا ہوا؟ تم کہتے ہو کہ یہودیوں کا خیال اس لئے صحیح نہیں کہ وہ ملاکی نبی پر وحی الٰہی کے سلسلہ کو بند قرار دے رہے ہیں جو ایک معمولی حیثیت کے نبی تھے۔حالانکہ آخری نقطہ وہ ہونا چاہیےتھا جو موسٰی سے بڑھ کر ہوتا۔عیسائیوں کا خیال اس لئے صحیح نہیں کہ وہ شریعت سے بھاگ رہے ہیں اور ہندوئوں کا خیال اس لئے صحیح نہیں کہ وہ ابتدائے عالم میں ہی کامل شریعت کا نزول تسلیم کرتے ہیں۔حالانکہ یہ ابتدائی نہیں بلکہ آخری نقطہ ہونا چاہیے۔جب یہ تمام خیالات باطل ہیں توپھر تم خود ہی بتائو کہ پیدائش انسانی کا مقصد کس نبی کے ذریعہ پورا ہوا؟ اس سوال کا جواب دینے سے پیشتر یہ بتادینا ضروری ہے کہ گو آج تک اللہ تعالیٰ کے ہزاروں انبیاء دنیامیں آچکے ہیں مگر بہت سے نبی ایسے گزرے ہیں جن کے ناموں کا بھی ہمیںعلم نہیں کجا یہ کہ ہم کہہ سکیںکہ ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا کیا کلام نازل ہوا تھا۔مثلاً ہندو گو ابتدائے عالم میں ویدوں کا نزول تسلیم کرتے ہیں مگر یہ ثابت نہیں کرسکتے کہ وید کن رشیوں پر نازل ہوئے تھے۔جب اتنی معمولی بات کا بھی انہیں علم نہیں تو ان کے متعلق یہ بحث کس طرح کی جاسکتی ہے کہ وہ پیدائش انسانی کا مقصود تھے یا نہیں۔زرتشت پیدائش انسانی کا مقصد نہیں زرتشتی بےشک حضرت زرتشتؑکو اللہ تعالیٰ کا نبی مانتے ہیں مگر ان کی کتاب میں صاف طور پر آئندہ آنے والے ایک نبی کی پیشگوئی پائی جاتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زرتشتؑ پیدائش انسانی کا آخری نقطہ نہیں تھے ورنہ وہ اپنے بعد کسی اور صاحب شریعت نبی کی خبرنہ دیتے۔(سفرنک دساتیر صفحہ ۱۹۰) ہندوئوں اور زرتشتیوں کے انبیاء کو مستثنیٰ کرتے ہوئے کہ ان میں سے حضرت زرتشتؑ نے خود اپنے آپ کو آخری نقطہ