تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 367
ہم سے روایت کی۔میں نے بھی مناسب جانا کہ سب کو سرے سے صحیح طور پر دریافت کرکے تیرے لئے اے بزرگ تھیو فلس بترتیب لکھوں تاکہ تو ان باتوں کی حقیقت کو جن کی تونے تعلیم پائی جانے‘‘۔(لوقا باب ۱ آیت ۱ تا ۴) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اناجیل حواریوں نے نہیں بلکہ ان سے ملنے والوں اور شاید ملنے والوں کے ملنے والوں نے لکھی ہیں۔غرض دنیا میں سوائے قرآن کریم کے اور کوئی کتاب ایسی نہیں جو شروع سے ہی لکھوائی گئی ہو اور جس کو بار بار پڑھنا لوگوں کا فرض قرار دیا گیا ہو۔پس اِقْرَاْ میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ یہ کتاب دنیا میں لکھی جائے گی اور لوگوں سے کہا جائے گا کہ اسے پڑھواور بار بار پڑھو۔اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ میں شرک کا ردّ پھر فرمایا بِاسْمِ رَبِّكَ اپنے رب کے نام کے ساتھ پڑھ۔یہاں رَبِّكَ کا لفظ استعما ل کرکے اللہ تعالیٰ نے ایک نئے مضمون کی طرف اشارہ کیا ہے۔درحقیقت رب ایک ایسی ذات ہے جس کو مشرک بھی مانتے تھے اور یہودی اور عیسائی بھی اس کے متعلق اپنے ایمان کا اظہار کرتے تھے مگر وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے تھے۔مثلاً مشرکین یہ تو کہا کرتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے وجود پر ایمان لاتے ہیں مگر وہ اس کے ساتھ ہی لات اور عزیٰ کی بھی پرستش کرتے تھے۔یا عیسائی یہ تو کہتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا وجود تسلیم کرتے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتے تھے۔یہی حال یہود کاتھا کہ وہ اللہ تعالیٰ پر تو ایمان رکھتے تھے مگر اس کے ساتھ ہی ان کا یہ بھی اعتقاد تھا کہ یہود کے سوا اللہ تعالیٰ اور کسی پر الہام نازل نہیں کرسکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت ان تمام امور کا نہایت سختی کے ساتھ انکار کرتی تھی۔وہ یہودیت کے نظریہ کو بھی تسلیم نہ کرتی تھی۔عیسائیت کے فلسفہ کو بھی رد کرتی تھی اور مشرکین مکہ کے خیالات کو بھی ناقابل قبول قرار دیتی تھی۔آپ غار حرا کی تاریکیوں میں جب اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے اور اس کو سوز اور گداز کے ساتھ پکارتے تو یہ تمام خیالات ایک ایک کرکے آپ کے سامنے آتے۔آپ دیکھتے کہ یہود گو اللہ تعالیٰ کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں مگر یہ کیسا گھنائونا عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس نے اپنی محبت یہود کے ساتھ وابستہ کردی ہے۔دنیا کا اور کوئی انسان اس کے کلام اور الہام کا مورد نہیں ہوسکتا۔آپ عیسائیت کی تعلیم پر غور کرتے اور سوچتے کہ بے شک عیسائیت بھی اللہ تعالیٰ کی ہستی کو تسلیم کرتی ہے مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا بیٹا قرار دے کر مقام الوہیت کی خطرناک توہین کررہی ہے۔آپ مشرکین مکہ کے عقائد پر نگاہ دوڑاتے تو آپ کی فطرت