تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 366
اور پاکیزگی کی راہیں ان پر روشن کریں مگر وہاں ایسا کوئی پیغام نہیں دیا گیا۔اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جو پیغام ملا اس میں بھی اس بنیادی چیز کا کوئی ذکر نہیں صرف اتنا بیان کیا جاتا ہے کہ ایک کبوتری اتری اور آسمان سے یہ آواز آئی کہ تو میرا پیارا بیٹا ہے۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر پہلا فقرہ یہی نازل ہوتا ہے کہ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ۔اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو دنیا کے سامنے اعلان کر اور اسے بتا کہ اسے اس کا خالق رب اپنی طرف بلاتا ہے اس طرح پہلے لفظ کے ذریعہ ہی اس حقیقت کو روشن کردیا گیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام ساری دنیا کے لئے ہے۔اسود اور احمر اس پیغام کے مخاطب ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرض ہے کہ وہ تمام لوگوں تک اس پیغام کو پہنچائیں اور وہ لوگ جو آستانۂ الٰہی سے بھٹک چکے ہیں ان کو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف واپس لائیں۔اِقْرَاْ میں پیشگوئی کہ قرآن مجید لکھا جائے گا اِقْرَاْ کے دوسرے معنے کسی لکھی ہوئی چیز کو پڑھنے کے ہوتے ہیں۔ان معنوں کے لحاظ سے اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو لکھی جائے گی اور پھر یہ لکھی ہوئی کتاب بار بار پڑھی جائے گی۔چنانچہ اگر واقعات پر غور کیا جائے تو معلو م ہوتا ہے کہ قرآن دنیا میں وہ پہلی کتاب ہے جو ابتدائے نزول کے ساتھ ہی لکھی گئی ہے۔اس کے علاوہ دنیا میں اور جس قدر الہامی کتابیں پائی جاتی ہیں ان میں سے کوئی ایک کتاب بھی ایسی نہیں جو نازل ہونے کے وقت ہی لکھ لی گئی ہو۔صرف قرآن کریم ہی ایک کتاب ہے جس کے متعلق یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ اسے لکھا جائے گا اور اس طرح شروع سے ہی اس کی حفاظت کا سامان کیا جائے گا اور وہ پیشگوئی حرف بہ حرف پوری بھی ہوگئی۔چنانچہ نولڈکے، وہیری اور میور تک نے یہ تسلیم کیا ہے کہ سوائے قرآن کریم کے اور کوئی کتاب ایسی نہیں جو ابتدائے ایام میں لکھی گئی ہو۔(The Life of Mahomat by Sir William Muir P:561-563 - A Comprehensive Commentary on The Quran by Wherry Vol,1 Page:109) انجیلیں بے شک آج دنیا میں موجود ہیں مگر کوئی عیسائی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ کتابیں حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی میں لکھی گئی ہیں ہر شخص جانتا ہے کہ متی، مرقس، لوقا اور یوحنا نے حضرت مسیحؑ کی وفات کے ایک لمبے عرصہ بعد ان باتوں کو جمع کیا چنانچہ ’’لوقا‘‘ خود اس امر کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتا ہے ’’چونکہ بہتوں نے کمر باندھی کہ ان کاموں کا جو فی الواقع ہمارے درمیان انجام ہوئے بیان کریں جس طرح سے انہوں نے جو شروع سے خود دیکھنے والے اور کلام کی خدمت کرنے والے تھے